Friday, 23 October 2015

آنسوؤں کو زنگ لگا !!
اب مَیں کیسا لگتا ھوں
مَیں خود کو سب آنکھوں میں
دھندلا دھندلا لگتا ھوں .........!!
"جون ایلیا

وصل کی شام شبِ ہجر میں تحلیل ھوئی
تب کہیں جا کے مِرے عشق کی تکمیل ھوئی

آ پڑا میری ہی دیوار کا سایہ مجھ پر
دھوپ میرے لیے یوں چھاؤں میں تبدیل ھوئی

میری آنکھوں پہ بھی غلبہ تھا کسی چہرے کا
لوحِ دل پر بھی کسی اسم کی تنزیل ھوئی

نیند کے چاک پہ رکھا مجھے کوزہ گر نے
عالمِ خواب میں گویا میری تشکیل ھوئی

رفتہ رفتہ ہی مِری آنکھ میں اُترا پانی
رفتہ رفتہ یہ نظر پھیل کے اِک جھیل ھوئی

نیند تو آنکھ میں دَر آئی کبھی کی اشرف
بعد مدّت کے مگر خواب کی ترسیل ھوئی

"اشرف نقوی"

دِل میں اِک دشت ھے اور آبلہ پائی یوں ھے
وہ میرے سامنے بیٹھا ھے، جدائی یوں ھے

ایک تلوار بھی ھے کاسہءِ اُمید کے ساتھ
اب کے اِس شہر میں اندازِ گدائی یوں ھے

دِل، جگر، آنکھ سبھی ایک ھوئے جاتے ھوئے
میرے احوال میں وہ دستِ حِنائی یوں ھے

بزمِ احباب بھی ھے رونقِ دُنیا بھی ھے
پر میرا دل نہیں لگتا، میرے بھائی ! یوں ھے

تیرے بارے میں کوئی مجھ کو بتاتا ہی نہیں
وہ خُدا ایسا ھے اور اُس کی خُدائی یوں ھے

"ڈاکٹر جاوید اقبال"
مجھ میں وہ شور مچایا میری خاموشی نے
اپنی گویائی کا کرنا پڑا اعلان مجھے..........!!
"انجم سلیمی"
کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ
شام کا وقت ہے میاں۔۔چپ رہ
ہو گیا قصۂ وجود تمام
ہے اب آغازِ داستاں۔۔چُپ رہ
میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں
تُو بھی جاناں نہیں یہاں۔۔چُپ رہ
تُو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
تُو بھی اب تو نہیں وہاں۔۔چپ رہ
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
یاں ہے انساں بھی رائگاں۔۔چُپ رہ
سارا سودا نکال دے سر سے
اب نہیں کوئی آستاں۔۔چُپ رہ
اہرمن ہو۔۔خدا ہو۔۔یا آدم
ہو چکا سب کا امتحاں۔۔چُپ رہ
درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے
تُو نہیں اپنے درمیاں۔۔چُپ رہ
اب کوئی بات تیری بات نہیں
نہیں تیری۔۔تری زباں۔۔چُپ رہ
ہے یہاں ذکر حالِ موجوداں
تُو ہے اب از گزشتگاں۔۔چُپ رہ
ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
دل ہوا جونؔ بے اماں چُپ رہ
"جون ایلیا"

چارہ گر


مرے روگ کا نہ ملال کر ، مرے چارہ گر
میں بڑا ھوا اسے پال کر ، مرے چارہ گر

سبھی درد چُن مرے جسم سے ، کسی اسم سے
مرا انگ انگ بحال کر ، مرے چارہ گر

مجھے سی دے سوزن ِ درد ، رشتہ ءِ زرد سے
مجھے ضبط ِ غم سے بحال کر ، مرے چارہ گر

مجھے چیر نشتر ِعشق ، سوز ِ سرِشک سے
مرا اندمال بحال کر ، مرے چارہ گر

یہ بدن کے عارضی گھاؤ ہیں ، انہیں چھوڑ دے
مرے زخم ِ دل کا خیال کر ، مرے چارہ گر

فقط ایک قطرہ ءِ اشک میرا علاج ھے
مجھے مُبتلائے ملال کر ، مرے چارہ گر

مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیں
سو نہ مجھ سے کوئی سوال کر ، مرے چارہ گر

میں جہان ِ درد میں کھو گیا ، تجھے کیا ملا
مجھے امتحان میں ڈال کر، مرے چارہ گر

ترا حال دیکھ کے روئے گا ، تِرا چارہ گر
مِرا دل نہ دیکھ نکال کر ، مرے چارہ گر

"شہزاد نیر"
بے نام رفاقتوں کا موسم !!
زخموں کے چمن کِھلا گیا پھر
"افتخار عارف"


آج ھم دَار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر........!
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

مَیں وہ پیڑ ھوں جس پر کوئی پھول نہیں کھلتا
سارے موسم مجھ پر بے عنوان گُزرتے ہیں

"علی زید"


وہ ہمیں بھولنا چاہییں تو بھلا دیں پل میں
ھم اُنہیں بھولنا چاہییں تو زمانے لگ جائیں
"استاد بیدل حیدری"
زمیں سے پہلے زماں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
نظر سے پَرلے گماں سے پہلے ٰ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
خدائے سادہ ! تمہیں خبر کیا ' یہ عشق کیا ہے؟ وفور کیا ہے ؟
گُھلی ہوئی خُوے جاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
یہاں تماشے میں آ گئے ہیں ' کسی لبادے میں آ گئے ہیں
مگر اِس اپنے زیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
یہ نفس کیا کچھ سِکھا رہا تھا ' مگر اسے مَیں بتا رہی تھی
وجود کے ہر بیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
سفیدی شفّاف ہو رہی تھی ' زمیں پہ آباد ہو رہی تھی
ظہور تک ہر نہاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی' بس ایک تُم تھے
خیال سیڑھی اتر رہا تھا ' تو خواب آنکھیں مسل رہے تھے
مگر کسی بھی اذاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
"ثروتؔ زہرا"
اس حسن زادی سے کہو نا تم 
خاک زادے کو ہم سفر کر لے

وقفہ



رہگزر رہگزر
دُھوپ کے سلسلے
پانیوں کے لئے
سُلگتے ہوئے دشت
اپنی زمینوں سے ہٹتے رہے
گھنے جنگلوں میں بھٹکتی رہی
رات سو نہ سکی
درد کے دائرے
پھیلتے ہی رہے
اک زمانہ سے جاگی ہوئی آنکھ میں
نیند آجائے تو
یہ سفر ختم ہو
پھر کُھلے آنکھ تو
آسماں پر کہیں
کوئی سُورج ملے
زندگی کے لئے

"شاہد عزیز"
ھِجر دے ھنجُو اَکھیاں ساڑّن
پیڑ اینہاں دی , میں ھی جاناں.

سائیں وے



سائیں وے! توں باغاں ورگا راز
گیتاں ورگے رُکھ نے تیرے
پَتّر جیویں ساز

سائیں وے! میں پھردی کلم کلی
کوئی نہ چلے نال میرے تے
لوکی آکھن جَھلّی

سائیں وے! میں لِیراں لِیراں چولا
ناں کوئی مینوں پاوندا تن تے
ناں میں اُڑن کھٹولا

سائیں وے! دل کیتے کی کی کھیکھن
کنداں وِچوں اکھیاں لبھدا
جیہڑیاں تینوں ویکھن

سائیں وے! میں ڈھیر غماں دا ڈھواں
دل کردا میں بُوہے اگّے
کُوکاں مار کے روواں

سائیں وے! میں اندروں اندر خالی
ناں کوئی باغ اے جُثّے اندر
ناں کوئی میرا مالی

سائیں وے! میں ہِجر سرہانے پالا
کالک ملی منہ دے اتے
سینہ اندروں گالا

سائیں وے! میں گیت بِرہوں دا گاواں
جھاڑو پھیراں ویہڑے تیرے
یاداں چُنڑدی جاواں

سائیں وے! میں لہو دی دُھوڑ کھلاری
اپنا سایہ لبھدی پھردی
میں حیرت دی ماری

سائیں وے! میں اکھیاں ریت بھرایاں
انھی ہو کے واجاں ماراں
سائیاں، سائیاں، سائیاں

"حمادؔ نیازی"

مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا
عشق میں اچھے بُرے سب ہی کا احسان لیا

تم فقط خواہشِ دل ہی نہیں اب ضد بھی ہو
دل میں رہتے ہو تو پھر دل میں تمہیں ٹھان لیا

وہ مِرے گزرے ہوئے کل میں کہیں رہتا ہے
اِس لیے دور سے اُس شخص کوپہچان لیا

ہاتھ اُٹھایا تھا ستاروں کو پکڑ نے کے لیے
چرخ نے چاند کو خنجر کی طرح تان لیا

آزمایا ہی نہیں دوسرے جذبوں کوندیمؔ
اِس محبت کو ہی بس سب سے بڑا مان لیا

"ندیم بھابھہ"
خود مجھے بھی پتہ نہیں اپنا
کس جگہ پر دھرا ہوا ھوں مَیں
"انجم سلیمی"

مرگِ انتظار

تو نہ آتا تو یہ خواب
اور کچھ دن یونہی زندہ رہتے
اور کچھ دن یونہی آنکھوں میں سجاتے
ترے چہرے کے نقوش
اور کچھ دن یونہی سینے میں ترے نام کی دھڑکن رہتی
اور کچھ دن یونہی لمحہ لمحہ
تار مژگاں پہ پروتے تری چاہت کے ستارے
تری خواہش کے حسیں رنگ
ترے لمسِ تصور کے کنول
اب جو تو لوٹ کے آیا ہے تو آنکھوں میں تری یاد
نہ چاہت کے ستارے ہیں
نہ خواہش کے حسیں رنگ
نہ پلکوں پہ ترے لمسِ تصور کے کنول ہیں
فقط اک نم ہے، نم شیشۂ جاں
"خالد علیم"

"تھوڑی دیر"

تھوڑی دیر ذرا سا اور وہیں رُکتیں تو
سُورج جھانک کے دیکھ رہا تھا کھڑکی سے
ایک کرن جُھمکے پر آ کر بیٹھی تھی،
رُخسار کو چوُمنے والی تھی کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم مُنہ موڑ کے چل دِیں اور بیچاری کرن
فرش پہ گر کے چوُر ہوئی
تھوڑی دیر، ذرا سا اور وہیں رُکتی تو ؟
"گلز

Thursday, 22 October 2015

نمازِ عشق کی تفسیر بن گیا ترا غم
کبھی فغاں ، کبھی سجدہ، کبھی دُعا ترا غم
گروہِ خاک نشینیاں کا آسرا ترا غم
بنا گیا ہے فقیروں کو کیا سے کیا ترا غم
ہزار ظلم کی کوشش کہ ذکر مٹ جائے
مگر بچھی تیری فرش عزا ،رہا تیرا غم
حصارِ ظلم کے نرغے میں سرخرو ترے لوگ
حدودِ وقتِ معیّن سے ماورا ترا غم
مقابلِ صفِ اعدا بلند تیرے علم
خیامِ صبر شعاراں کا حو صلہ ترا غم
کشا کشِ دل و دنیا میں ہم غلاموں نے
ہر ایک چیز گنوا دی بچا لیا تیرا غم
ہوئی ہے جب بھی صف آرا سپاہ ظلمت و ظلم
کہیں سپر ، کہیں شمشیر ، بن گیا تیرا غم

Wednesday, 21 October 2015

A pious one with a hundred beads on your rosary,
or a drunkard in a tavern,
any gift you bring the Beloved will be accepted
as long as you come in longing.
It is this most secret pain,
this bleeding separation,
which will guide you to your Heart of Hearts.
Abu-Said Abil-Kheir 

بۓ دسمبر دا آکھ کے سانول
سال زندگی ودھا ڈتی میڈی

ﺗﺨﻠﯿﮧ ﺍﮮ ﮨُﺠﻮﻡِ ﺷﻮﺭ ﺍﻧﮕﯿﺰ
ﺧﺎﻣﺸﯽ ﮨﻤﮑﻼﻡ ﮨﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ

Tuesday, 20 October 2015


سِر تے گھُپ ہنیر تے دھرتی اُتے کال
پیریں کنڈے زہر دے لہُو وچ بھجے وال
جتن کرو کُجھ دوستو ، توڑو موت دا جال
پھَڑ مُرلی اوئے رانجھیا،کڈھ کوئ تکِھی تان
مار کوئ تیر اوئے مِرزیا،کھچ کے وَل اَسمان
سخت مشکل میں ہوں اِک خواہشِ سادہ کر کے
توڑ بیٹھا ہوں کئی بار ارادہ کر کے
میں جسے اپنی محبت کی اکائی سمجھا
اس نے تو چھوڑ دیا ہے مجھے آدھا کر کے
اسکی باتوں کے بھروسے پہ کہاں تک جائیں
وہ تو پورا نہیں کرتا کوئی وعدہ کر کے
وہ جو اک شخص مری مُٹھی میں آ جاتا تھا
کھو دیا میں نے اسے دل کو کشادہ کر کے
میں بھی کیا نقش ہوں اَزبر نہیں ہونے پاتا
اور وہ بھول بھی جاتا ہے اعادہ کر کے
کچھ تکلف بھی ضروری ہے رچاؤ کے لئے
زندگی اور بھی مشکل ہوئی سادہ کر کے
میں تو شہپر تھا، ہواؤں میں اُڑا کرتا تھا
شوقِ شطرنج نے مارا ہے پیادہ کر کے
پہلے کاٹا مجھے اِک پیڑ کے پہلو سے سلیمؔ
پھر اُڑایا ہے ہواؤں میں بُرادہ کر کے
محمد سلیمؔ طاہر
دل سا نگار خانہ کہاں دوسرا بنے
جِس میں کہ جو بھی نقش بنے یار کا بنے
ایسی جمالِ یار کی قدرت کہ کیا کہوں
دل آپ منتظر ہے کہ مِٹ جائے یا بنے
کچھ بھی نہیں کیا تو ہیں چرچے اس قدر
کچھ کر گیا تو جانیے کیا ماجرا بنے
اب سنگ آ رہے ہیں تو کس فکر میں ہے تُو
تُو ہی تو چاہتا تھا کہ تُو آئینہ بنے
بننا ہی کچھ اگر ہے تو انسان بن میاں
یہ بھی ہے کوئی کام کہ بندہ خدا بنے
اک غم بنا رہے ہیں میاں اپنی طرز پر
ہم دل شکستگاں سے بھلا اور کیا بنے
یہ حال ہو تو ہمدم و محرم کسے کریں
خود سے بھی کچھ کہیں تو یہاں واقعہ بنے
یہ بے وفائی ہے، تو حقیقت ہے کس کا نام
جب تُو نہیں ہے اس کا تو وہ کیوں ترا بنے
منزل ملی تو سجدہ کیا، اور یہ کہا
اس پر سلام ہو جو علیؔ راستہ بنے
علی زریون

Hold fast to dreams
For if dreams die
Life is a broken-winged bird
That cannot fly.
Hold fast to dreams
For when dreams go
Life is a barren field
Frozen with snow.
Langston Hughes
وہ کافر آشنا ، نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھی
ہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھی
تعجب کیا اگر رسمِ وفا یوں بھی ہے اور یوں بھی
کہ حُسن و عشق کا ہر مسئلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی
کہیں ذرہ، کہیں صحرا، کہیں قطرہ ، کہیں دریا
مُحبت اور اُس کا سلسلہ یوں بھی ہے اور یوں بھی
وہ مُجھ سے پُوچھتے ہیں ایک مقصد میری ہستی کا
بتاؤں کیا کہ میرا مُدعا یوں بھی ہے اور یوں بھی
ہم اُن سے کیا کہیں وہ جانیں اُن کی مصلحت جانے
ہمارا حالِ دل تو برملا یوں بھی ہے اور یوں بھی
نہ پا لینا تیرا آسان نہ کھو دینا تیرا ممکن
مُصیبت میں یہ جانِ مُبتلا یوں بھی ہے اور یوں بھی
جگر مراد آبادی
یہ مزا تھا، خلد میں بھی نہ مجھے قرار ہوتا
جو وہاں بھی آنکھ کھُلتی، یہی انتظار ہوتا
میں جنونِ عشق میں یوں ہمہ تن فگار ہوتا
کہ مرے لہُو سے پیدا اثرِ بہار ہوتا
میرے رشکِ بے نہایت کو نہ پوچھ میرے دل سے
تجھے تجھ سے بھی چھُپاتا، اگر اختیار ہوتا
مری بےقراریاں ہی تو ہیں اس کی وجہ تسکیں
جو مجھے قرار ہوتا ، تو وہ بے قرار ہوتا
جسے چشمِ شوق میری کسی طرح دیکھ پاتی
کبھی حشر تک وہ جلوہ نہ پھر آشکار ہوتا
یہ دل اور یہ بیانِ غمِ عشق بے محابا
اگر آپ طرح دیتے، مجھے ناگوار ہوتا
کبھی یہ ملال، اس کا نہ دُکھے کسی طرح دل
کبھی یہ خیال، وہ بھی یونہی بےقرار ہوتا
مرا حال ہی جگر کیا، وہ مریضِ عشق ہوں میں
کہ وہ زہر بھی جو دیتا، مجھے سازگار ہوتا
جگر مراد آبادی
ﺑﻮﮨﺖ ﺍُﺩﺍﺱ ﺟﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻭﺍﮞ ﺳﮑﮫ ﺩﺍ سندیسہ ﺁﻧﺪﺍ
ﻣﺸﮑﻼﮞ ﻭﭺ ﺟﺪﻭﮞ ﺗﮭﮏ ﺟﺎﻭﺍﮞ ﮐﺠﮫ ﻏﯿﺐ ﻭﻟﻮﮞ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺪﺍ
ﺟﺪﮬﺮﻭﮞ ﻣﯿﻨﻮﮞ ﺧﺒﺮ ﻧﺌﯿﮟ ﮨﻨﺪﯼ ﺍﻭﺩﮬﺮﻭﮞ ﺣﻮصلہ ﺁﻧﺪﺍ
ﮨﻨﯿﺮﯾﺎﮞ ﭘﭽﮭﻤﺎﮞ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﮭُﭧ ﺩﯼ ﭘﻮﺭباں ﻭﻟﻮﮞ ﻻﻟﯽ
ﺁﺱ ﻧﺌﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﭨﭩﻦ ﺩﯾﻨﺪﺍ ﺍﯾﺲ ﺟﮩﺎﻥ ﺩﺍ ﻭﺍﻟﯽ
ﻣﯿﺮﯾﺎﮞ ﻣﺪﺩﺍﮞ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺭﮨﻨﺪﯼ ﺍﮎ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺧﯿﺎﻟﯽ
منیر نیازی
لمّی رات سی درد فراق والی
تیرے قول تے اساں وساہ کر کے
کَوڑا گھُٹ کیتی مٹھڑے یار میرے
مٹھڑے یار میرے، جانی یار میرے
تیرے قول تے اساں وساہ کر کے
جھانجراں وانگ، زنجیراں چھنکائیاں نیں
کدی کنّیں مندراں پائیاں نیں
کدی پیریں بیڑیاں چائیاں نیں
تیری تاہنگ وِچ پَٹ دا ماس دے کے
اساں کاگ سدّے، اساں سنیہہ گھلّے
رات مُکدی اے، یار آوندا اے
اسیں تک دے رہے ہزار ولّے
کوئی آیا نہ بِناں خُنامیاں دے
کوئی پُجّا نہ سوا اُلاہمیاں دے
اَج لاہ اُلاہمے مٹھڑے یار میرے
اَج آ ویہڑے وِچھڑے یار میرے
فجر ہووے تے آکھیے بسم اللہ
اَج دولتاں ساڈے گھر آئیاں نیں
جیہدے قول تے اساں وساہ کیتا
اوہنے اوڑک توڑ نبھائیاں نیں
فیض احمد فیض 

شام

اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے
کوئی اُجڑا ہوا، بے نُور پُرانا مندر
ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے
چاک ہر دم، ہر اک در کا دمِ آخر تک
آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے
جسم پر راکھ ملے، ماتھے پر سیندور ملے
سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے
اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہو گا
اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا
آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے
چُپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھُوٹے
دے کوئی سنکھ دہائی، کوئی پایل بولے
کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے
فیض احمد فیض 

اجازت

تمھارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو
تمھارے بعد بھلا کیا ہے وعدہ و پیماں
بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو
تمھارے ہجر کی شب ہائے تار میں جاناں
کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو
جنوں وہی ہے، وہی میں، مگر ہے شہر نیا
یہاں بھی شور مچا لوں اگر اجازت ہو
کسے ہے خواہشِ مرہم گری مگر پھر بھی
میں اپنے زخم دکھا لوں اگر اجازت ہو
تمھاری یاد میں جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال سنبھال لوں اگر اجازت ہو
جون ایلیا
کل اس کے ساتھ ہی سب راستے روانہ ہوئے
میں آج گھر سے نکلتا تو کس کے گھر جاتا
شاذ تمکنت
روز و شب لاکھوں ہی ارمان بھرے رہتے ہیں
حسرتوں سے نہیں ہوتا دلِ ناداں خالی
آباد لکھنوی


ﯾﻮﮞ ﺟﺴﺘﺠﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻞ ﮔﺌﮯ
ﮨﻢ ﮐﻮﺋﮯ ﯾﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﮔﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ

ﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺸﻢِ ﺗﻐﺎﻓﻞ ﭘﺴﻨﺪ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﺭﻧﮓ ﺟﻮ ﺑﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻞ ﮔﺌﮯ

ﺍﮮ ﺷﻤﻊ ! ﺍُﻥ ﭘﺘﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺧﺒﺮ
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺷﺘﯿﺎﻕ ﮐﯽ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺟﻞ ﮔﺌﮯ

ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺷﺮﯾﮏ
ﺟﻮ ﺣﺎﺩﺛﺎﺕ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﺮﻭّﺕ ﺳﮯ ﭨﻞ ﮔﺌﮯ

ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺍﮮ ﻋﺪﻡ
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮩﺎﻥ ﻓﺮﻁِ ﺭﻗﺎﺑﺖ ﺳﮯ ﺟﻞ ﮔﺌﮯ

عبد الحمید عدم

کتابوں کا نوحہ



کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
مہینوں اب ملاقاتیں نہیں ہوتیں
جو شامیں ان کی صحبت میں کٹا کرتی تھیں ۔۔ اب اکثر
گزر جاتی ہیں کمپیوٹر کے پردوں پر

بڑی بےچین رہتی ہیں
انہیں اب نیند میں چلنے کی عادت ہوگئی ہے
بڑی حسرت سے تکتی ہیں
جو قدریں وہ سناتی تھیں
کہ جن کے سیل کبھی مرتے نہیں تھے

وہ قدریں اب نظر آتی نہیں گھر میں
جو رشتے وہ سناتی تھیں
وہ سارے ادھڑے ادھڑے ہیں
کوئی صفحہ پلٹتا ہوں تو اک سسکی نکلتی ہے

کئی لفظوں کے معنی گرپڑے ہیں
بنا پتوں کےسوکھے ٹنڈ لگتے ہیں وہ سب الفاظ
جن پر اب کوئی معنی نہیں اگتے
بہت سی اصطلاحیں ہیں ۔۔۔۔
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیں
گلاسوں نے انہیں متروک کرڈالا

زباں پہ ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کا
اب انگلی کلک کرنے سے بس اک
جھپکی گزرتی ہے۔۔۔۔۔
بہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر

کتابوں سے جو ذاتی رابطہ تھا کٹ گیا ہے
کبھی سینے پہ رکھ کے لیٹ جاتے تھے
کبھی گودی میں لیتے تھے
کبھی گھٹنوں کو اپنے رحل کی صورت بناکر
نیم سجدے میں پڑھا کرتے تھے چھوتے تھے جبیں سے

خدا نے چاہا تو وہ سارا علم تو ملتا رہے گا بعد میں بھی
مگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول
کتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھے
ان کا کیا ہوگا
وہ شاید اب نہیں ہوں گے

گلزار صاحب سنپورن سنگھ

زندگی

اک گمانِ بے گماں ہے زندگی
داستاں کی داستاں ہے زندگی
دَم بہ دَم ہے اک فراقِ جاوداں
اک جبیں بے آستاں ہے زندگی
کہکشاں بر کہکشاں ہے اک گریز
بودِ بے سود و زیاں ہے زندگی
ہے مری تیرہ نگاہی اک تلاش
تم کہاں ہو اور کہاں ہے زندگی
جون ایلیا
کوئی چکر تها مسافت کا میرے پاؤں میں
عشق لے کر مجھے پهرتا رہا صحراؤں میں
راشدہ ماہین ملک

Change

"The years pass in their hundreds and their thousands, and what does any man see of life but a few summers, a few winters?
We look at mountains and call them eternal, and so they seem.
But in the course of time, mountains rise and fall, rivers change their courses, stars fall from the sky, and great cities sink beneath the sea.
Everything changes."
⊙ George R.R.Martin ♡♡♡

دل لہو ہو رہا ہے جانم جی

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی
یونہی باتیں بناتے ہیں ہم جی
کیا بھلا آستین اور دامن
کب سے پلکیں بھی اب نہیں نم جی
اُس سے اب کوئی بات کیا کرنا
خود سے بھی بات کیجیے کم کم جی
دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھا
اب ہے درہم جی اور برہم جی
بات بے طَور ہو گئی شاید
زخم بھی اب نہیں ہے مرہم جی
ہار دنیا سے مان لیں شاید
دل ہمارے میں اب نہیں دم جی
آپ سے دل کی بات کیسے کہوں
آپ ہی تو ہیں دل کے محرم جی
ہے یہ حسرت کہ ذبح ہو جاؤں
ہے شکن اس شکم کی ظالم جی
کیسے آخر نہ رنگ کھیلیں ہم
دل لہو ہو رہا ہے جانم جی
وقت دم بھر کا کھیل ہے اس میں
بیش از بیش ہے کم از کم جی
ہے ازل سے ابد تلک کا حساب
اور بس ایک پل ہے پیہم جی
بے شکن ہو گئی ہیں وہ زلفیں
اس گلی میں نہیں رہے خم جی
دشتِ دل کا غزال ہی نہ رہا
اب بھلا کس سے کیجیے رَم جی
جون ایلیا
پھر بجُز دشت کہاں جا کے رہیں چاہنے والے تیرے
عرصۂ شہر میں عُنقا ہیں زمانے سے حوالے تیرے
تُو نے کوتاہی نہ کی خاک اڑانے میں ہماری تو کیا
ہم نے بھی باغ میں کلیوں میں بہت رنگ اچھالے تیرے
اسعد بدایونی

دیکھ

خمارِ ذات کی حِدت سے جھُومتا ہُوا دیکھ
دِیا ہوا کے سمندر میں تیرتا ہُوا دیکھ
نظر اُٹھا سرِ آئینۂ فراق، اور پھر
خزاں کا رنگ رگِ گُل میں رینگتا ہُوا دیکھ
اب ایسے وقت میں تُو کیا کرے گا میرے لیے
چل ایسا کر، مِری سانسوں کو ٹُوٹتا ہُوا دیکھ
اُڑایا تھا جسے تُو نے فلک کی سمت اے دوست
پھر اُس غُبار کو قدموں میں بیٹھتا ہُوا دیکھ
پلٹ کے ایک نظر دیکھ بادباں سے ادھر
اور اس کی آنکھ میں کاجل کو پھیلتا ہُوا دیکھ
یہ دل ہمیشہ سے آئینہ سا ہے تیرے لیے
سو خُود کو عکس بہ عکس اس میں گُونجتا ہوا دیکھ
شبِ ستارہ و مہتابِ نیلگُوں، کسی وقت
ہمارا چاند بھی پانی سے کھیلتا ہوا دیکھ
ایوب خاورؔ
There is a sacredness in tears. They are not the mark of weakness, but of power.
⊙ Jalal Ud Deen Rumi ♡ ♡ ♡

دستک سی یہ کیا تھی کوئی سایا ہے کہ میں ہوں
اک شخص مِری طرح کا آیا ہے کہ میں ہوں

سب جیسا ہوں لیکن مِرے تصویر گروں نے
چہرہ مِرا اس رُخ سے بنایا ہے کہ میں ہوں 

کیا نیند تھی وہ اپنے نہ ہونے کے نشے کی
کیوں یہ مِرے ہونے نے بتایا ہے کہ میں ہوں

میں ہوں کہ ہیں موجود مِرے دیکھنے والے
خود مجھ کو تو کم کم نظر آیا ہے کہ میں ہوں

میں اس میں مگن، وہم ہے یا خواب ہے ہستی
لوگوں نے مگر دام بچھایا ہے کہ میں ہوں

دیکھوں تو مِرے عکس سے کیا کہتا ہے دریا
پَل بھر کو تو لہروں نے بتایا ہے کہ میں ہوں

کچھ کم تو نہیں یہ مِرے ہونے کی گواہی
اس جرم میں کس کس نے ستایا ہے کہ میں ہوں

رضی اختر شوق


Do not worry if you have built your castles in the air. They are where they should be. Now put the foundations under them. 

~ Henry David Thoreau
شہر سنسان ہے کدھر جائیں
خاک ہو کر کہیں بکھر جائیں
رات کتنی گزر گئی لیکن
اتنی ہمت نہیں کہ گھر جائیں
یوں ترے دھیان سے لرزتا ہوں
جیسے پتے ہوا سے ڈر جائیں
اُن اجالوں کی دھن میں ‌پھرتا ہوں
چھب دکھاتے ہی جو گزر جائیں
رین اندھیری ہے اور کنارہ دور
چاند نکلے تو پار اتر جائیں
ناصر کاظمی 
عشق اول، عشق آخر، عشق کُل
عشق برگ و عشق نخل و عشق گُل

اُسے ڈھونڈا وہ کہیں بھی نہ ملا
وہ کہیں بھی نہیں، یا ہے دل میں
ناصر کاظمی
نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا
اب دَردِ دل علاج و دوا سے سے گزر گیا
ان کا خیال بن گئیں سینے کی دھڑکنیں
نغمہ مقامِ صوت و صدا سے گزر گیا
اعجازِ بے خودی ہے کہ حُسنِ بندگی
اِک بُت کی جستجو میں خدا سے گزر گیا
انصاف سیم و زر کی تجلّی نے ڈس لیا
ہر جرم احتیاجِ سزا سے گزر گیا
اُلجھی تھی عقل و ہوش میں ساغر رہ حیات
میں لے کے تیرا نام فنا سے گزر گیا
ساغر صدیقی ♡

سکیچ


یاد ہے اِک دن
میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
چھوٹے سے اِک پودے کا
ایک سکیچ بنایا تھا
آ کر دیکھو
اس پودے پر پھول آیا ہے
گلزار

طوق و دار کا موسم


روش روش ہے وہی انتظار کا موسم
نہیں ہے کوئی بھی موسم، بہار کا موسم

گراں ہے دل پہ غمِ روزگار کا موسم
ہے آزمائشِ حسنِ نگار کا موسم
خوشا نظارۂ رخسارِ یار کی ساعت
خوشا قرارِ دلِ بے قرار کا موسم
حدیثِ بادہ و ساقی نہیں تو کس مصرف
خرامِ ابرِ سرِ کوہسار کا موسم
نصیبِ صحبتِ یاراں نہیں تو کیا کیجے
یہ رقص سایہء سرو و چنار کا موسم
یہ دل کے داغ تو دکھتے تھی یوں بھی پر کم کم
کچھ اب کے اور ہے ہجرانِ یار کا موسم
یہی جنوں کا، یہی طوق و دار کا موسم
یہی ہے جبر، یہی اختیار کا موسم
قفس ہے بس میں تمہارے، تمہارے بس میں نہیں
چمن میں آتشِ گل کے نکھار کا موسم
صبا کی مست خرامی تہِ کمند نہیں
اسیرِ دام نہیں ہے بہار کا موسم
بلا سے ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گے
فروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسم

انتظار

ٹھہرے ٹھہرے سے شانت ساگر میں
پھولے پھولے سے باد بانوں نے
اپنے بوجھل اُداس سینوں میں
سانس بھر بھر کے تھام رکھی ہے
آج ساحل پہ گر پڑا ہے سکوت
آج پانی پہ رُک گئی ہے صبا
ٹھہری ٹھہری ہے زندگی ساری
تجھ سے ملنے کا انتظار سا ہے
گلزار
محبت ہو بھی سکتی ہے
پگھل پتھر بھی سکتے ہیں
الٹ دریا بھی سکتا ھے
کوئی آوارہ سا پنچھی
پلٹ کر آ بھی سکتا ھے
کہ جو شب مجھ پر ہنستی ھے
وہی شب رو بھی سکتی ھے
محبت ھو بھی سکتی ھے
کبھی یوں بھی تو ہو
سونی ہر منزل ہو
کوئی نہ میرے ساتھ ہو
اور تم آؤ
جاوید اختر

“Knock, and He’ll open the door .
Vanish, and He’ll make you shine like the sun.
Fall, and He’ll raise you to the heavens.
Become nothing, and He’ll turn you into everything.”
⊙ Jalal Ud Deen Rumi ♡

چراغِ شامِ آرزو بھی جھلملا کے رہ گۓ
ترا خیال راستے سُجھا سُجھا کے رہ گیا
ناصر کاظمی

کہا: تخلیق فن؟ بولے: بہت دُشوار تو ہو گی
کہا: مخلُوق؟ بولے: باعثِ آزار تو ہو گی
کہا: ہم کیا کریں اِس عہد ِناپُرساں میں، کچھ کہیے
وہ بولے: کوئی آخر صُورت ِاظہار تو ہو گی
کہا: ہم اپنی مرضی سے سفر بھی کر نہیں سکتے
وہ بولے: ہر قدم پر اِک نئی دیوار تو ہو گی
کہا: آنکھیں نہیں! اِس غم میں بینائی بھی جاتی ہے
وہ بولے: ہجر کی شب ہے ، ذرا دُشوار تو ہو گی
کہا: جلتا ہے دل، بولے: اِسے جلنے دیا جائے
اندھیرے میں کِسی کو روشنی درکار تو ہو گی
کہا: یہ کوچہ گری اور کتنی دیر تک آخر؟
وہ بولے: عشق میں مٹی تمہاری خوار تو ہو گی
اعتبار ساجد

You asked,
what is the scariest part?
I answer;
the scariest part
is not the feeling of loneliness
or the darkness that fills you
despite the looming pain
of emptiness
The scariest part
is the realization
that you have completely lost yourself
completely
sinking in as you lay awake
at 2 am
because you lost the ability to sleep
and you can't even cry
because you don't even care.