Sunday, 17 August 2014
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تیرا سپنا اَمر سَمے تک
اپنی نیند ادھُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
کالے پنکھ کُھلے کوئل کے
کُوکی بَن میں دُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تیرے تَن کا کیسر مہکے
خُوشبو اُڑے سندھُوری، سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
میرا عِشق، زمیں کی مٹّی
ناں ناری ناں نُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
سزا جزا، مالِک کا حِصّہ
بندے کی مزدُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تیرا ہجر، رُتوں کی ہجرت
تیرا وصل، حضُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تیری مُشک بَدن کا موسم
جوبن رَس انگُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
بوسہ بوسہ، انگ، انگ میں
کِس نے گُوندھی چُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تیرا کِبْر ، تِری یکتائی !
اپنا مَن، منصُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
تَن کو چِیر کے پُھوٹی خواہش
کیا ظاہر، مستُوری سائیں
اپنی نیند ادھُوری سائیں
سرمد صہبائی
کہا اس نے
کہا اس نے
مجھے تب واقعی تم سے محبّت تھی
کہا میں نے
مجھے تو آج بھی تم سے محبّت ہے
وہ تب کی بات کرتا ہے
میں اب کی بات کرتا ہوں
مگر جو فاصلہ
تب اور اب کے درمیاں حائل ہے
وہ مل کر بھی سمیٹا جا نہیں سکتا
وہ اب تک آ نہیں سکتا
میں تب کو پا نہیں سکتا
ہبوط
زمیں کے گرد ان دیکھی ہواؤں کی فصیلیں ہیں
کوئ اوپر سے آۓ گا تو ٹکراۓ گا ان سے اور بھسم ہو جاۓ گا
جس طرح مسجود ملائک جب زمیں کی سمت آیا تھا
تو مس ہو کر ہواؤں سے
فضا میں جل بجھا تھا
اس کا جو ٹکڑا سلگتا رہ گیا تھا
اور زمیں پر گر گیا تھا
اس کو ہم انسان کہتے ہیں
احمد ندیم قاسمی
دسمبر ۱۹۸۳
اُس حسنِ ہجر یاب کا طُرفہ جمال دیکھ
اُس حسنِ ہجر یاب کا طُرفہ جمال دیکھ
آنکھوں میں پھیلتا ھوا رنگِ ملال دیکھ
تُو دیکھتا نہیں تھا مرے حال کی طرف
اب گردشوں میں گھوم، زمانے کی چال دیکھ
کچھ پُر کشش نہیں ہیں جوابوں کی صورتیں
اے صاحبِ نگاہ تو حسنِ سوال دیکھ
ایسے سمجھ نہ آئے گی حالت مری تجھے
اپنا عروج دیکھ کے میرا زوال دیکھ
زخموں کی آب و تاب سے رونق تو دل میں تھی
تُو اندمال چھوڑ، غمِ اندمال دیکھ
انبوہ لگ رہے ھیں نظاروں کے جا بجا
نظروں کی خیر مانگ یہاں خال خال دیکھ
پہرے پہ بے شمار ہیں آنکھوں کے کیمرے
اے شائقِ جمال، ذرا دیکھ بھال دیکھ
اس نے خمارِدید میں ہولے سے یہ کہا
پگھلا رھی ھیں مجھ کو، نگاہیں سنبھال دیکھ
نیّر کسے نصیب ھے دیدِ دیارِ دل
بس دلبروں کی دلبری کے خدّوخال دیکھ
شہزاد نیّر
"مکمّل نظم"
نظم الجھی ھوئی ھے سینے میں
شعر اٹکے ھوئے ھیں ھونٹوں پر
لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ھی نہیں
اڑتے پھرے ھیں تتلیوں کی طرح
کب سے بیٹھا ھوا ھوں میں جانم
سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا
بس ترا نام ھی مکمّل ھے
اس سے بہتر بھی نظم کیا ھو گی ؟؟
"گلزار
یہ بوندیں ہتھیلی پر
رہ رہ کے لرزتی ہیں
تھم تھم کے مچلتی ہیں
اور آہنی ریکھائیں
گم نام حرارت سے
جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں
چپ چاپ پگھلتی ہیں
نمناک فضائوں کے
حیران دریچوں سے
کرنیں سی جھلکتی ہیں
کچھ کہہ کے دبے قدموں
یکبار پلٹتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
کچھ کانچ بھری کلیاں
کچھ سر بفلک شاخیں
کھڑکی کے بدن تک بھی
مشکل سے پہنچتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
خاموشی کی بیلیں جو
اک دل سے نکلتی ہیں
اک دل میں اترتی ہیں
گلناز کوثر
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھکو کھو دیا، میں نے تجھکو کھویا نہیں
نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں
ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں
جرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
منیر نیازی
آسودگانِ ہجر سے ملنے کی چاہ میں
کوئی فقیر بیٹھا ہے صحرا کی راہ میں
پھر یوں ہوا کہ شوق سے کھولی نہ میں نے آنکھ
اِک خواب آ گیا تھا مری خوابگاہ میں
اس بار کتنی دیر یہاں ہوں،نہیں خبر
آ تو گیا ہوں پھر سے تری بارگاہ میں
پھر کارِ زندگی نے مجھے چھوڑنا نہیں
کچھ دن یہیں گزار لوں اپنی پناہ میں
یاروں نے آ کے جان بچائی مری،کہ مَیں
خود سے الجھ پڑا تھا یونہی خوامخواہ میں
عابد ملک
یہ عرضی بھی مان لے سائیاں
بے شک میری جان لے سائیاں
دنیا سے پھر کیا لینا ہے
تو مجھ کو پہچان لے سائیاں
مجھ سے شائد کھو جائے گا
میرا یہ دل دان لے سائیاں
غم کی دھوپ میں جل نہ جاؤں
مجھ پہ چھتری تان لے سائیاں
من آنگن ویران پڑا ہے
آ کر یہ دالان لے سائیاں
کنار آب
ظہور رضا بخاری
بے شک میری جان لے سائیاں
دنیا سے پھر کیا لینا ہے
تو مجھ کو پہچان لے سائیاں
مجھ سے شائد کھو جائے گا
میرا یہ دل دان لے سائیاں
غم کی دھوپ میں جل نہ جاؤں
مجھ پہ چھتری تان لے سائیاں
من آنگن ویران پڑا ہے
آ کر یہ دالان لے سائیاں
کنار آب
ظہور رضا بخاری
رنگ پیرہن کا، خوشبو زُلف لہرانے کا نام
رنگ پیرہن کا، خوشبو زُلف لہرانے کا نام
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گُلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلِیں
پھر تصوّر نے لِیا، اُس بزم میں جانے کا نام
دِلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھُلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زُلف بِکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
محتسب کی خیر، اونچا ہے اُسی کے فیض سے
رِند کا ، ساقی کا، مے کا، خُم کا ،پیمانے کانام
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو، اپنے ویرانے کا نام
فیض! اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے، جنھیں
آشنا کے نام سے، پیارا ہے بیگانے کا نام
فیض احمد فیض
موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام
دوستو ، اُس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گُلستاں کی بات رنگیں ہے، نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلِیں
پھر تصوّر نے لِیا، اُس بزم میں جانے کا نام
دِلبری ٹھہرا زبانِ خلق کھُلوانے کا نام
اب نہیں لیتے پری رُو زُلف بِکھرانے کا نام
اب کسی لیلیٰ کو بھی اقرارِ محبوبی نہیں
ان دنوں بدنام ہے ہر ایک دیوانے کا نام
محتسب کی خیر، اونچا ہے اُسی کے فیض سے
رِند کا ، ساقی کا، مے کا، خُم کا ،پیمانے کانام
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو، اپنے ویرانے کا نام
فیض! اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے، جنھیں
آشنا کے نام سے، پیارا ہے بیگانے کا نام
فیض احمد فیض
Subscribe to:
Posts (Atom)







