Thursday, 18 February 2016


میں چاھتا ھوں
میری موت کی خبر سن کر
تجھ پہ عمر بھر کا
سکتہ طاری ھو جائے

بالیں پہ کہیں رات ڈھل رہی ہے
یا شمع پگھل رہی ہے
پہلو میں کوئی چیز جل رہی ہے
تم ہو کہ مری جاں نکل رہی ہے

فیض احمد فیضؔ

ﻣﮕﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ "



ﻣﯿﮟ ﺁﮌﮬﮯ ﺗِﺮﭼﮭﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﻮﭼﻮﮞ
ﮐﮧ ﺑﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ _______ ﮐﺘﺎﺏ ﻟﮑﮭﻮﮞ

ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻨﺎﺳﺎ ﺳﯽ ﻏﺰﻝ ﺗﺮﺍﺷﻮﮞ
ﮐﮧ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺍﻧﺘﺴﺎﺏ ﻟﮑﮭﻮﮞ _____ ،

ﮔﻨﻮﺍ ﺩﻭﮞ ﺍِﮎ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ
ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﻟﮑﮭﻮﮞ

ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﭘﮧ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﻧﺼﺎﺏ ﻟﮑﮭﻮﮞ

ﯾﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺰﺍﺝ ﭘﮧ ﮨﮯ _____ ،
ﻋﺬﺍﺏ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺛﻮﺍﺏ ﻟﮑﮭﻮﮞ

ﻃﻮﯾﻞ ﺗﺮ ﮨﮯ ﺳﻔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ

ﻋﯿﻦ ﻋﺸﻖ، ﺷﯿﻦ ﻋﺸﻖ، ﻗﺎﻑ ﻋﺸﻖ
ﮐﻮﭼﮧِٔ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﻋﺸﻖ
ﮔﺮ ﻣﻨﺰﻝِ ﻋﯿﻦ ﺷﯿﻦ ﻗﺎﻑ ﭘﮧ ﮨﻮ
ﺍِﮎ ﭘﻞ ﮐﺎ ﺭُﮐﻨﺎ، ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﻋﺸﻖ
ﻏﺎﻟﺐ ﺟﯿﺴﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮑﻤّﺎ ﮐﺮﺩﯾﺎ
ﮨﺎ، ﻣﯿﻢ ﮐﻮ ﮐﺮﺩﮮ ﻣﻌﺎﻑ ﻋﺸﻖ
ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﮯ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﭘﮭﺮ ﺭﮮ، ﻭﺍﻭٔ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻑ ﻋﺸﻖ
ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻮﻟﯽ ﭼﮍﮬﺎ، ﮐﻮﺋﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﯿﺎ
ﻣﯿﻢ ﺗﮯ ﺑﮕﮭﺎﺭ ﻻﻑ ، ﻋﺸﻖ
ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﺣﺪ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ، ﮐﮧ ﮨﮯ
ﻗﺎﻑ ﺗﺎ ﺑﮧ ﻗﺎﻑ ﻋﺸﻖ
ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﮐﮩﺪﻭ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ، ﻋﺸﻖ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ
ﻋﺸﻖ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﻋﺸﻖ

سُن سانسوں کے سلطان پیا
ترے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیا
تو میرا کُل جہان پیا
مری ہستی، مان، سمان بھی تو
مرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو
مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تو
میرے سپنوں کا سلطان بھی تو
کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئی
ترے ہجر میں آ بیمار ہوئی
کب میں تیری سردار ہوئی
میں ضبط کی چیخ پکار ہوئی
میرا لوں لوں تجھے بلائے وے
میری جان وچھوڑا کھائے وے
تیرا ہجر بڑا بے درد سجن
میری جان پہ بن بن آئے وے
تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگری
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کبھی میری عرضی مان پیا
میں چپ، گم سم، سنسان پیا
میں ازلوں سے نادان پیا
تو میرا کُل جہان پیا

ﮔﻼﺑﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ
ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ
ﻣﺨﻤﻮﺭ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ
ﺗﮭﮑﮯ ﮨﺎﺭﮮ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺑﮭﯽ
ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ
ﺗﻢ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ
ﺍُﻓﻖ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﺗﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻣﺮﯼ ﺍﻥ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮯ
ﺑﮭﯿﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺮﯼ ﺷﺎﻣﯿﮟ
ﻣﺮﯼ ﺭﺍﺗﯿﮟ
ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ !!!!

تمہارے ساتھ نے جاناں
مجھے 'تخلیق' بخشی تھی
میرے الفاظ کو ترتیب
تخیّل کو بہت سے خواب
-
کہ میں تو کشف سے، پل بھر میں واقف ہو گئی جیسے
میں نے وجدان پایا تھا،
بہت سے رنگ میری سوچ میں یوں بھر گئے تھے کہ... ستارے
پھلجڑی
جگنو
بہاریں، سب لگے پھیکے
-
مگر جب سے گئے ہو تم
مجھے کچھ ایسا لگتا ہے
کہ جیسے دوپہر میں گہن لگ جاتا ہے سورج کو
اچانک رات ہوتی ہے
پرندے سہم جاتے ہیں
کچھ ایسا خود سے کہتے ہیں
"ابھی تو دانہ چگنا تھا"
"ابھی تو گھر بنانا تھا"
"یہ یکدم شام کیوں آئی؟"
-
کسی سہمے ہوئے طائر کی مانند میں بھی بیٹھی ہوں... کہاں جائوں؟؟؟
میں کیا سوچوں؟؟؟
-
تخیّل بانجھ ہو جس کا
بھلا وہ کس طرح سوچے؟؟؟

کبھی عشق کی آگ میں جل کر تو دیکھ
اسکی کڑواھت اور شوریدہ سری کو محسوس تو کر
وقت کی چکی کے پاٹوں میں پس تو سہی
اور پھر بس اسی کو دیکھ
اسی سے ناطہ رکھ .. اسی سے عشق کر
عشق وہ زہر ہے, پی لے تو قرار آجائے....

جلال الدین رومیؔ



یہ اہلِ عشق تہی دست ہو گئے کب سے
کہ سال بھر میں فقط ایک دن محبت کا
فقظ ایک دن کہ تقاضہِ التفات کریں
فقط ایک دن کہ نظر سے دلوں کی بات کریں
فقط ایک دن کہ خریدیں محبت کے گُلاب
فقط ایک دن کہ بھیجیں محبت کے پیام
میں اپنے شوقِ فراواں پہ کیوں نہ ناز کروں
وفودِ عشق سَدا مجھ کو سُرخرُو رکھے
میں روز اُسکو محبت کے پھول دیتا ہوں
میں روز سامنے اُسکے قبول لیتا ہوں
کہ مجھ کو تم سے محبت ہے زندگی کی طرح
میرا خُلوص بھی سچا ہے بندگی کی طرح
کہ بندگی کسی ایک دن کا اہتمام نہیں
کہ آرزو کے تسلسل میں صبح شام نہیں
سو کیوں سال گزرنے کا انتظار کریں
سو کیوں گردشِ دوراں پہ انحصار کریں
سو کیوں سانس کے ہونے کا اعتبار کریں
میں روز اُسکو محبت کے پھول دیتا ہوں
میں روز سامنے اُسکے قبول لیتا ہوں

ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﻏﻢ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮨﮯ...
ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﻣﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ..

When love beckons to you, follow him, Though his ways are hard and steep. And when his wings enfold you yield to him, Though the sword hidden among his pinions may wound you.
||| Kahlil Gibran
Sometimes when life happens,
Your heart rides many feelings and emotions ,
tranquility and anger,peace and upheaval,
love and indifference,joy and sorrow…
Remember nothing lasts forever,
the good and bad,success and failure,
laughs and the tears,
all come to an end…in one cyclic ride.
In life take one leg in front of the other,
Just keep going.
With each new day something fresh comes to life,
New feelings come alive,
keep in mind,
no feeling is final…
let it all be.
~ Maulana Rumi (RA)

The truth
that you desire me,
that you long for me
in the heart of my heart
this intimate secret now I know !
~ Maulana Rumi (RA)

اگر اُس کا دیدار کرنا چاہتے ہو تو۔۔۔۔
سوز عشق کی آتش سے اپنی ہر چیز جلا ڈالو۔۔۔۔
تمہاری نطر اگر نور پر ہے تو۔۔۔۔
فلک پر جگمگاتے ہزاروں ستارے تمہیں نظر نہیں آئیں گے۔۔۔
حسین بن منصور حلاج رحمتہ اللہ علیہ

عِشق وه قرض کہ، ------ جو روح کے حصے آیا
عمر بھر کٹتی رھی سانس کی --- پائی پائی

پهر سے آنکھوں میں خواب انشاء جی "
اجتناب اجتناب اجتناب انشاء جی .!

ﺗُﻮ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ ﺳﻮ ﺷُﮑﺮﺍﻧﮧ ﯾﮩﯽ ﮨﮯﺗﯿﺮﺍ
ﭘﻠﮑﯿﮟ ﺟﮭﭙﮑﺎﺋﮯ ﺑﻨﺎ ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﮑﺘﮯ ﺟﺎﻭﯾﮟ
ﺭﺣﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺱ

وہ اِک شخص متاعِ دِل و جان تھا ـ ـ ـ نہ رہا
اَب بھلا کون ــ میرے دَرد سنبھالے محسنؔ
محسن نقوی...

توں لکھ کروڑ ،،،،،، ہزار سہی
میں ککھ وی نئیں لاچار سہی
توں حسن جمال دا مالک سہی
میں کوجھا تے ،،،،، بیکار سہی
توں باغ بہار دی رونق سہی
توں گُل پھُل، تے میں خار سہی
میکوں سجناں اپنے نال چا رکھ
میں نوکر ،،،،، توں سرکار سہی





ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻓﻘﻂ
ﺍﺗﻨﺎ ﺳﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﮨﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

عشق آپ وی اولا ایہدے کم وی اولے.........
جہدے پیش پے جاندا ککھ چھڈ دا نئیں پلے

مجھے تو ہم مکتبی کے دن یاد آ گئے ہیں،
کہ میں اسے پڑھ رہا ہوں اور وہ کتاب دیکھے!
احمد فراز
اجڑی جھوک وسا دے میری
موڑ میرے ول واگاں
سفنے وچ اک وار جے آویں
میں ساری عمر نا جاگاں


No man, for any considerable period, can wear one face to himself, and another to the multitude, without finally getting bewildered as to which may be the true.
||| The Scarlet Letter by Nathaniel Hawthorne

آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رُکی ہو گی بہار
جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

فیض احمد فیضؔ
"Love is a tree with branches reaching far beyond time into eternity." 

 Jalal Ud Deen Rumi