Tuesday, 20 October 2015

انتظار

ٹھہرے ٹھہرے سے شانت ساگر میں
پھولے پھولے سے باد بانوں نے
اپنے بوجھل اُداس سینوں میں
سانس بھر بھر کے تھام رکھی ہے
آج ساحل پہ گر پڑا ہے سکوت
آج پانی پہ رُک گئی ہے صبا
ٹھہری ٹھہری ہے زندگی ساری
تجھ سے ملنے کا انتظار سا ہے
گلزار

No comments:

Post a Comment