Sunday, 29 November 2015


ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺩﺍ ﻭﺭﻗﮧ ﺧﺎﻟﯽ ﺍﮮ
ﺗﮯ ﺑﮭﺮﯾﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮑﯿﺮﺍﮞ ﻧﺎﻝ
Very true, you never stop caring, when you love someone It should never really matter what happened in the past. The past should stay in the past

می رقصم


جب اس سے انگ لاگا ہے، تو مجھ کو رنگ لاگا ہے
وہ میرے سنگ جاگا ہے، جو خوشبودار می رقصم

نچاتا ہے مجھے تو پاؤں دونوں باندھ کر میرے
مثال ماہی بے آب، موجمدار می رقصم

میری وحشت تو میرے پاؤں ٹکنے نہیں دیتی
سرخانہ، سرمحفل، سربازار می رقصم

کوئی روکے اگر، تو رقص کرنے سے نہیں رکنا
کوئی ٹوکے اگر، تو میں بصد اصرار می رقصم

کنارے پر سجا رکھی ہے اپنی جھونپڑی میں نے
جب آ جاتا ہے وہ، اس پار سے اس پار می رقصم

نچایا عشق میں بلھا کو جیسے تھیا تھیا کر
اس دھج سے بوقت جستجو یار می رقصم

شام



یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
ترے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!

ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئیگا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصۂ جدائی
کوئی کار نا مکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے !

ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہرباں میں
کسی خواب کے یقیں میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں !

پروین شاکر

کتنی پیاسی ھیں یہ بنجر آنکھیں
ابر زادے، انہیں جل تھل کر دے

خوشبو آئی ھے تو لوٹے نہ کبھی
اب ھوا کو بھی کوئی شل کر دے

یا مجھے وصل عطا کر مالک
یا میرا ھجر مکمل کر دے

رقص ..!!



رقص کر رقص ..!!
کہ یہ سوزش - دیرینہ تھمے..!!
معبد -جسم میں خواہش کی بھڑکتی آتش ..!!
ہجر کے سوگ میں روئی ہوئی آنکھوں کی جلن اور چبھن ..!!
پاؤں سے باندھی ہوئی دشت و بیاباں کی مسافت کی تھکن ..!!
کھول ..!!!!
کھول یہ بے سر و سامانی کی گٹھڑی اور دیکھ ..!!
کیسی نایاب تمناؤں کے اجلے موسم ..!!
کاسنی رنگ میں بھیگھے ہوئے خوابوں کے بدن ،
سانس گھٹ جانے سے مرنے لگے ہیں ..!!
سانس لے ..!!
اپنی خود ساختہ تنھائی کے سیلن زدہ اس غار سے باھر آ کر ...!!
دیکھ تو ..!!
خوشبوؤں اور محبّت سے مہکتی ہوئی حیرانی کو ،
عشق کی تازہ فراوانی کو ..!!
جذب کر ،
خوں میں اتار ،
اور اسے روح میں بھر ..!!!
رقص کر ،
رقص ..!!

علی زریون
Blessed are the hearts that can bend; they shall never be broken. 

 ~Albert Camus~ 
I desired to praise the Chosen One and was hindered
By my own inability to grasp the extent of his glory.

How can one such as I measure an ocean, when the ocean is vast?
And how can one such as I count the stones and the stars?

If all of my limbs were to become tongues, even then –
Even then I could not begin to praise him as I desired.

And if all of creation gathered together in an attempt
To praise him, even then they would stint in his due.

I have altogether ceased trying – awestruck, clinging to courtesy,
Tempered by timidity, glorifying his most exalted rank.

Indeed, sometimes silence holds within it the essence of eloquence,
And often speech merely fodder for the faultfinder.

Ibn Juzayy al-Kalbi_

روشنی تیرے جنم یگ پر ایک نظم




تیری اقلیم محبت میں رکا ہے
اک مسافر بے ارادہ، بے مجال
تجھ کو چھو کر
اصل ہونے کی تمنا میں نڈھال
خواب کے اندر بکھرتے خواب کا زخمی ملال
راکھ پر آنکھیں بناتی
انگلیوں کا بے بصر اندھا کمال
دم بدم رنگت بدلتے موسموں کے درمیاں
پھول کھلتی، دھول ملتی خواہشوں کا اندمال
بے عبادت بے دعا ارض و سما کے روبرو
ایک تابیدہ تیقن کو مجسم دیکھنے کی جستجو
لا حاصلی، کار زیاں، امر محال
رینگتی صدیوں، تھکی عمروں کے بوجھل بوجھ میں
تلملاتے ماہ و سال
گرد آلودہ مسافت ہمسفر مفقود ہے
راستہ بے سمت ہے مسدود ہے
اذن سفر کا کیا سوال
اے مرے عکس جمال
آگہی محدود ہے، تیری ارادت لا زوال
تو ہمیشہ کے لئے ہے، میں ذرا سا لمحہ بھر کا اک خیال
٭٭٭
نصیر احمد ناصر

کھڑکیاں



کھڑکیاں منظر دکھاتی ہیں
دلوں کی ہوں، دماغوں کی کہ آنکھوں کی
وہ باہر کی طرف کھلتی ہوں یا اندر کی جانب
روشنی اس پار کی اس پار لاتی ہیں
کھڑکیاں باتیں بھی کرتی ہیں
لبوں کے قفل ابجد کھولتی ہیں
کھڑکیوں پہ رات جب تاریکیوں کے جال بنتی ہے
تو عمریں درد کی پاتال سے سرگوشیوں میں بولتی ہیں
کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں
زباں بندی کے دن، بے داد کی راتیں، ستم کے دور سہتی ہیں
کھڑکیاں صدیوں کے خوابوں کی کہانی ہیں
فصیلوں، آنگنوں، اجڑے مکانوں کی گواہی ہیں
ازل سے وقت کے جبری تسلسل میں
تھکن سے چرچراتے زنگ آلودہ زمانوں کی گواہی ہیں
کھڑکیاں عورت کا دل رکھتی ہیں
خوشبو، دھوپ، بارش، چاند کی کرنیں
ہوا کے ایک جھونکے سے
بدن کے موسموں پر کھول دیتی ہیں
اڑا کر کاغذی پیکر
انوکھی خواہشوں میں زندگی کو رول دیتی ہیں
کھڑکیوں کے سامنے جب تتلیاں پرواز کرتی ہیں
تو شیشوں سے لگی آنکھوں میں یادوں کی
دوپہریں بھیگ جاتی ہیں
سفید و سرخ پھولوں سے لدی بیلیں
انہیں جب ڈھانپ لیتی ہیں
تو شامیں خوبصورت اجنبی لوگوں کا رستہ دیکھتی ہیں
مٹھیوں میں جگنوؤں کا لمس بھرتی ہیں
کھڑکیاں اکثر کھلی رہنے کی ضد کرتی ہیں
نیلا آسماں، بادل، پرندے، دیکھ کر حیران ہوتی ہیں
ہمیشہ بند رکھنے سے
انہیں کمروں کی، دیواروں کی سانسیں ٹوٹنے کا خوف رہتا ہے
مکینوں کے چلے جانے پہ ڈرتی ہیں
انہیں بھی زندگی ویران لگتی ہے، اداسی کاٹنے کو دوڑتی ہے
کھڑکیاں انسان ہوتی ہیں
٭٭٭
نصیر احمد ناصر 

سنو اے محرمِ ہستی!
سنو اے زیست کی حاصل!
مجھے کچھ دن ہوئے شدت سے یہ محسوس ہوتا ہے
کہ میں دنیا میں خود کو جس قدر بھی گم کروں
مجھ کو تمہارا دھیان رہتا ہے
میرے معمول کے سب راستے اب بھی
تمہاری سوچ سے ہو کر گزرتے ہیں
تمہاری مسکراہٹ آج بھی اس زندگی میں روشنی کا استعارہ ہے
تمہارے ہجر سے اب تک میرے دل کے درودیوار پروحشت برستی ہے
میرے اندر کی ویرانی مجھے ہر آن ڈستی ہے
بہت سے ان کہے جذبے جو ہم محسوس کرتے تھے
وہ مجھ سے بات کرتے ہیں
میری تنہائیں اب بھی تمہارے عکس کی پرچھائیوں کو ڈھونڈ لیتی ہیں
سنو اے محرمِ ہستی!
میں اپنے آپ سے کب تک لڑوں
کب تک میں خود سے جھوٹ بولوں
میں تمہارے بعد زندہ ہوں، مکمل ہوں، میں اپنے کھوکھلے پن کو چھپاوں کس طرح خود سے
اٹھائے کب تلک رکھوں انا کا ماتمی پرچم
میں کب تک یہ کہوں سب سے
کہ میں اس ہجر میں خوش ہوں
سنو اے زیست کی حاصل!
مجھے اقرار کرنا ہے،
میں اپنے آپ سے لڑتے ہوئے اب تھک چکا ہوں
کہ میں تو اس لڑائی میں
کئی راتوں کی نیندیں اور کئی خوشیوں بھرے موسم
فقط اک جھوٹ میں جینے کی خاطر ہار آیا ہوں
سنو اے محرم ہستی!
تمہاری خواب سی آنکھوں نے مجھ کو باندھ رکھا ہے
میں ان دیکھی یہ ڈوریں توڑنے کاسوچتا ہوں جب
تو میری سانس رکتی ہے
میں بزدل ہوں، تمہیں کھونے سے مجھ کو خوف آتا ہے
تمہارے ہجر میں جینا تمہیں کھونے سے بہتر ہے
سنو اے محرم ہستی!
مجھے تسلیم کرنے دو!
میری اس زندگانی کا تمہی روش حوالہ ہو
میری تکمیل تم سے ہے
تمہارے ہجر میں جینا بہت دشوار ہے لیکن
تمہیں کھونے سے بہتر ہے
تمہیں کھونے کا سوچوں بھی تو میری سانس رکتی ہے
سنو اے محرمِ ہستی!
سنو اے زیست کی حاصل
“All day I think about it, then at night I say it.
Where did I come from, and what am I supposed to be doing?
I have no idea.
My soul is from elsewhere, I'm sure of that,
And I intend to end up there.

This drunkenness began in some other tavern.
When I get back around to that place,
I'll be completely sober. Meanwhile,
I'm like a bird from another continent, sitting in this aviary.
The day is coming when I fly off,
But who is it now in my ear who hears my voice?
Who says words with my mouth?

Who looks out with my eyes? What is the soul?
I cannot stop asking.
If I could taste one sip of an answer,
I could break out of this prison for drunks.
I didn't come here of my own accord, and I can't leave that way.
Whoever brought me here will have to take me home.

This poetry. I never know what I'm going to say.
I don't plan it.
When I'm outside the saying of it, I get very quiet and rarely speak at all.

We have a huge barrel of wine, but no cups.
That's fine with us. Every morning
We glow and in the evening we glow again.”
― Rumi

"۔ذرا سا ہجر ہے بس"




نجانے تم کہاں ہو 
تمہاری آہٹیں اب بھی دھڑکتی ہیں
فضا میں ہواؤں کے پیالے میں
تمہاری سانس کی تلچھٹ ہے
باقی تمہارے جسم کی خوشبو
مِرے ماتھے کا بوسہ لے رہی ہے
میں اس کا ہاتھ پکڑے،ہر تعفّن پار کرتی جا رہی ہوں۔

بصارت میں ابھی تک ہے تمہاری دید زندہ
اسی سے ہے مِری آنکھوں میں اب تک نور باقی
تمہاری چشم ہائے دل کُشا کی روشنی
میرے چراغوں میں ہے اب تک
سما عت کے شجر میں ہیں تمہارے خوب صورت چہچہوں کے آشیانے
تمھاری دل رُبا سرگوشیوں کی گنگناہٹ
کو فنا نے کب چُھوا ہے
مساموں میں تمہارا لمس اب تک جاگتا ہے

زمانہ رفتگاں میں نام لیتا ہے تمہارا
مگر تم وہ شجر ہوجو زمیں سے کٹ کے بھی کٹتا نہیں ہے
تمہارا مہرباں سایہ مِرے سر سے کبھی ہٹتا نہیں ہے

یہیں ان کائناتی دائروں میں ہو کہیں تم
میں سانسوں کی اندھیری کوٹھڑی میں ہوں مقیّد
تمہیں اس سے رہائی مل چکی ہے
تمہیں جلدی تھی ،
تم نے بدن کا بوجھ مٹّی کے حوالے کر دیا ہے
ذرا سا ہجر ہے بس

حمیدہ شاہین

دھند ہی دھند ہے
چارسو دھند ہے
تا بہ حد نگاہ دھند کا راج ہے
دور تک دیکھنے کی ضرورت نہیں
جو بھی قربت میں ہے
اس کو محسوس کر
اس پہ اپنی توجہ کو مرکوز کر
کیا خبر دھند کے پار بھی
دھند ہی دھند ہو
دھند کو اوڑھ کر سفر معکوس کر
اپنے اندر اتر
موتیوں کے جزیرے کی پہچان کر
اپنی بے مائگی کی حدوں سے نکل
خود کو خوش حال کر
دھند کے ہر تصور کو پامال کر

تمام غم ہے

سوال غم ہے
جواب غم ہے
ہزار سالوں میں جو مکمل ہوئی
محبت کی خون رنگی کتاب غم ہے
تمہارے لب پہ جو مسکراہٹ ہے
میرے لب پہ جو آشنائی کی منزلوں کا سفر لکھا ہے
یہ سارا غم ہے
کسی کے تن کی سندرتا غم ہے
کسی نظر کی گنجلتا غم ہے
محبتوں کے سمندروں میں
اُترتی خوش رنگ سیڑھیوں پر
یہ لڑکیوں کی قطار غم ہے
کفن میں لپٹی دُلہن کی آنکھوں میں
آنسوؤں کا شمار غم ہے
وہ لڑکیاں ، لڑکے ، عورتیں ، مرد غم ہی غم ہیں
جو میری نظموں کے جنگلوں کے
بے سمت رستوں پہ کھو گئے ہیں
وہ سال خوردہ حسین عورت بھی غم کا چہرہ بنی ہوئی ہے
جسے محبت نے روشنی کی نوید دی تھی
وہ جس نے وعدوں سے اپنی منزل کشید کی تھی
وہ گاؤں کی کچی پکی راہیں
وہ میری ماں کی نحیف بانہیں بھی غم ہی غم تھیں
کہ میرا بچپن تو غم کے لمبے سفر کی
غمگین ابتدا تھی
جوانی غم کی کہانی بن کر
کچھ ایسے لفظوں میں ڈھل گئی ہے
کہ غم کی تشہیر ہو گئی ہے
ابھی ابھی یہ جو شوخ سائے
حسین لمحوں کو چن رہے تھے
یہ غم کی تاریخ بن رہے تھے
یہ فلسفہ عقل و عشق و عرفاں
مجاز ، اعجاز اور حقیقت بھی سارے غم ہیں
میں ایک شاعر
میں ایک ساحر
میں آگہی کے عذاب میں گُم
سفر کا انجام جانتا ہوں
میں مانتا ہوں
کہ ہر خوشی کا امام غم ہے
تمام غم ہے

ابرار عمر

The moon shines in my body



The moon shines in my body, but my blind eyes cannot see it:
The moon is within me, and so is the sun.
The unstruck drum of Eternity is sounded within me; but my deaf ears cannot hear it.

So long as man clamours for the I and the Mine, his works are as naught:
When all love of the I and the Mine is dead, then the work of the Lord is done.
For work has no other aim than the getting of knowledge:
When that comes, then work is put away.

The flower blooms for the fruit: when the fruit comes, the flower withers.
The musk is in the deer, but it seeks it not within itself: it wanders in quest of grass.

Kabir  
Translation: Rabindranath Tagore
It speaks to me in the silence of this one
then through the words of that one speaking;

it whispers to me through an eyebrow raised
and the message of an eye winking.

And do you know what words it breathes into my ear? It says,

"I am Love: in heaven and earth I have no place;
I am the Wondrous Phoenix whose spoor cannot be traced.

With eyebrow-bow and arrow-winks I hunt
both worlds -- and yet my weapons cannot be found.

Like the sun I brighten each atom's cheek;
I cannot be pinpointed: I am too manifest.

I speak with every tongue, listen with all ears,
but marvel at this: My ears and tongue are erased.

Since in all the world only I exist
above and below, no likeness of me can be found."

 Fakhruddin Iraqi 



مجھ میں پیوست ہو تم .....یوں کہ زمانے والے
میری مٹی سے....میرے بعد..نکالیں گے تمہیں

اُس کا بندہ ہوں ، جو دائم و باقی دائم

لاکھ فانی ہوں، تعلق تو ہے لا فانی سے !!

بنا ہوا ہے لکیروں کا جال ہاتھوں میں
نصیب ڈال رہا ہے دھمال ہاتھوں میں

جسے منزل سمجھتا ہوں وہ پھر منزل نہیں رہتی
حجاب و نور کا یہ سلسلہ یا رب کہاں تک ہے


پھر وہی نرم ہوا
وہی آہستہ سفر موجِ صبا
گھر کے دروازے پہ ننھی سی ہتھیلی رکھے
منتظر ہے
کہ کِسی سمت سے آواز کی خوشبو آئے
سبز بیلوں کے خنک سائے سے کنگن کی کھنک
سُرخ پھُولوں کی سجل چھاؤں سے پائل کی جھنک
کوئی آواز۔۔۔بنامِ موسم!
اور پھر موجِ ہوا،موجۂ خُوشبو کی وہ البیلی سکھی
کچی عمروں کے نئے جذبوں کی سرشاری سے پاگل برکھا
دھانی آنچل میں شفق ریز،سلونا چہرہ
کاسنی چُنری،بدن بھیگا ہوا
پشت پر گیلے ،مگر آگ لگاتے گیسو
بھوری آنکھوں میں دمکتا ہُوا گہرا کجرا
رقص کرتی ہوئی، رِم جھم کے مدھُر تال کے زیرو بم پر
جھُومتی ،نقرئی پازیب بجاتی ہوئی آنگن میں اُتر آئی ہے
تھام کر ہاتھ یہ کہتی ہے
مرے ساتھ چلو!
لڑکیاں
شیشوں کے شفاف دریچوں پہ گرائے ہُوئے سب پردوں کو
اپنے کمروں میں اکیلی بیٹھی ہے
کیٹس کے ’’اوڈس‘‘پڑھاکرتی ہیں
کتنا مصروف سکوں چہروں پہ چھایا ہے۔۔مگر
جھانک کے دیکھیں
تو آنکھوں کو نظر آئے،کہ ہر مُوئے بدن
گوش برساز ہے!
ذہن بیتے ہُوئے موسم کی مہک ڈھونڈتا ہے
آنکھ کھوئے ہُوئے خوابوں کا پتہ چاہتی ہے
دل ،بڑے کرب سے
دروازوں سے ٹکراتے ہوئے نرم رِم جھم کے مدھُر گیت کے اس سُرکو بُلانے کی سعی کرتا ہے
جو گئے لمحوں کی بارش میں کہیں ڈوب گیا

کن فیکون۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے محبوب
کچھ
ایسی وارفتگی سے 
تو نے کن فیکون کہا
کہ
جہان عشق میں
میں تیری تخلیق
اور
تو میرا خدا ھو گیا 

وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
کبھی جب بات کرتی ہے
تو اُس کے لفظ خوشبو کی طرح محسوس ہوتے ہیں
وہ ہنستی ہے تو جیسے سارا عالم اُس ہنسی میں ڈوب جاتا ہے
وہ لب اُس کے، وہ آنکھیں اور وہ چہرے کی شادابی
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ میرا نام لیتی ہے تو میری روح میں جیسے نشہ سا اِک اُترتا ہے
میرا مَن جھوم اٹھتا ہے
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
جھکائے اپنی پلکوں کو کبھی مجھ سے جو کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے
تو اس کا شرمگیں لہجہ، یقیں مجھ کو دلاتا ہے کہ دُنیا خوبصورت ہے
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
اُداسی کے گھنے سایوں کو جب بھی اُوڑھ لیتی ہے
مرا دل خون روتا ہے
میں اُس کی شربتی آنکھوں کے نم سے بھیگ جاتا ہوں
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
جسے مجھ سے محبت ہے
مرا اظہار سنتی ہے تو پھر سب بھول جاتی ہے
جھکائے اپنی پلکوں کو وہ ایسے مسکراتی ہے
کہ جیسے اپسرا کوئی
وہ رنگوں میں ڈھلی لڑکی
مرے لفظوں میں رہتی ہے
مجھے اکثر یہ کہتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے

عاطف سعید
طلب کی اُس نے جب مجھ سے محبت کی وضاحت تو
بتایا، دَشت کے ہونٹوں پہ بارش کی دُعا جیسے
فاخرہ بتول

اپنی انگلی ڈبو کے روغن میں 
تم میرے جسم پر کہیں لکھ دو 
اس کے جملہ حقوق میرے ھیں 

گلزار 

خزاں


خزاں کے آخری دن ھیں
ھوا کے لَمس میں اِک بے صدا سی نغمگی محسوُس ھوتی ھے
کوئی مانوُس سی خوشبوُ مِرے کانوں میں کہتی ھے،
"پھر اُس کے حُسن کا محرم تِرا دِل ھونے والا ھے
وہ اُس کا اَدھ کہا جُملہ ۔۔۔۔
مُکمل ھونے والا ھے!

ﺟﻨﺎں ﻋﺸﻖ ﻧﻤﺎزاں ﭘﮍﮬﯿﺎں۔۔۔۔۔۔۔ او ﮐﺪے ﻧہﯿﮟ ﻣﺮدے
ﻋﺎﺷﻘﺎں دے درﺑﺎر ﺗﮯ ﺟﺎ ﮐﮯ۔۔۔۔۔ وﯾﮑﮫ ﻟﮯ دﯾﻮے ﺑﻠﺪے
ﻣﯿﺎں ﻣﺤﻤﺪ ﺑﺨﺶ

جو بہار آئی میرے گلشنِ جاں سے آئی
خاک کے ڈھیر میں، یہ بات کہاں سے آئی

عشق منزل پہ فقط راہِ یقیں سے پہنچا
عقل ، ناکام رہِ وھم و گُماں سے آئی....

خاک ھوں، پاک ھوں، ادنیٰ بھی ھوں اعلیٰ بھی ذھین
خود پہنچ جائے گی جو چیز جہاں سے آئی......

حضرت شاہ ذھین تاجی رح

جاں میں سبق عشق دا پڑھیا
مسجد کولوں جیوڑا ڈریا
پُچھ پُچھ ٹھاکر دوارے وڑیا
جتھّے وجدے ناد ہزار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

وید، قرآناں پڑھ پڑھ تھکّے
سجدے کردیاں گھس گئے متھّے
نہ رب تیرتھ نہ رب مکّے
جس پایا تس نور انوار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

پُھوک مصلّا بھن سٹ لوٹا
نہ پھڑ تسبی، عاصا، سوٹا
عاشق کہندے دے دے ہوکا
ترک حلالوں، کھا مُردار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

ہیر رانجھے دے ہو گئے میلے
بُھلی ہیر ڈھونڈیندی بیلے
رانجھا یار بُکّل وچ کھیلے
ہوش رہیا نہ سرت سنبھار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

جد میں رمز عشق دی پائی
طوطا مینا مار مکائی
اندر باہر ہوئی صفائی
جتول ویکھاں یارویار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

عمر گنوائی وچ مسیتی
اندر بھریا نال پلیتی
کدی نماز توحید نہ نیتی
ہن کیوں کرنا ایں شور پکار
عشق دی نویوں نوِیں بہار

عشق بھلایا سجدہ تیرا
ہن کیوں پانویں اینویں جھیڑا
بُلّھا ہوندا چپ بہتیرا
عشق کریندا مارومار
عشق دی نویوں نوِیں بہار


وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
سب سے نظر بچا کے وہ ، مجھ کو ایسے تھا دیکھتا
اک دفعہ تو رک گئی ، گردشِ ماہ و سال بھی
اسے کہنا۔۔۔۔۔
ہمیں کب فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔؟
کہ۔۔۔۔۔۔۔!
ہم تو شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتّے۔۔۔۔۔۔۔
بہت عرصہ ہوا ہم کو۔۔۔۔۔۔
رگیں تک مر چکیں دل کی۔۔۔۔۔۔
کوئی پاوٴں تلے روندے۔۔۔۔۔۔
جلا کر راکھ کر ڈالے۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کے ہاتھ پر رکھ کر۔۔۔۔۔۔
کہیں بھی پھینک دے ہم کو۔۔۔۔۔
سپردِ خاک کر ڈالے۔۔۔۔۔۔
ہمیں اب یاد ہی کب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کہ ہم بھی ایک موسم تھے۔

Saturday, 28 November 2015

اے میرے ماہ کامل پھر آشکارا ہو جا
اُ کتا گئی طبیعت تاروں کی روشنی سے
شکیل بدایونی 

ہم اس زمانے کی خوشیاں خریدتے کیسے،،
ہماری جیب میں پچھلی صدی کے سکے تھے۔ ؛

ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﻮ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮧ
ﺗﻮ ﭘﮩﺮﻭﮞ ﺩﻝ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ



الجھتی جا رہی ہے سانس میری
سماتا جا رہا ہے عشق مجھ میں _________!!!!!



نہ جانے اگلی گھڑی کیا سے کیا میں بن جاؤں
ابھی تو چاک پہ ہوں __ دست کوزہ گر میں ہوں


Do not overlook my misery,
by blandishing your eyes and weaving tales,
My patience has over-brimmed, O sweetheart!
why do you not take me to your bosom.
Long like curls in the night of separation
short like life on the day of our union.
My dear, how will I pass the dark dungeon night
without your face before.
Suddenly, using a thousand tricks
the enchanting eyes robbed me of my tranquil mind.
Who would care to go and report
this matter to my darling.
Tossed and bewildered, like a flickering candle,
I roam about in the fire of love.
Sleepless eyes, restless body,
neither comes she, nor any message.
In honour of the day I meet my beloved
who has lured me so long, O Khusro
I shall keep my heart suppressed
if ever I get a chance to get to her trick.
AMIR KHUSRo____________________

میرے ہمسفر



میرے دوست میرے ہمسفر تیری نذر ہیں میرے جذبۂ دل کی شدتیں
میرے خواب ، میری بصارتیں ، میری دھڑکنیں ، میری چاہتیں

جو تیرے قدم میرے گھر چلیں میرے ساتھ شمس و قمر چلیں
تیری قربتوں میں سمیٹ لوں راہ زندگی کی مسافتیں

یہ رداۓ جان تجھے سونپ دوں کہ نہ دھوپ تجھ کو کڑی لگے
کہیں دکھ نہ تجھ کو عطا کریں سر دشت غم کی تمازتیں

تیرے نام سے میری صبح ہو تیری یاد میں میری شام ہو
تیرے روبرو رہیں سرخرو میرے چشم و دل کی عبارتیں

تیرا پیار میری دعا رہے ، یہی فکر مجھ کو سدا رہے
کہ لہراتا رہے تیرا نخل جاں کہ نصیب ہوں تجھے راحتیں

میرے روز و شب کے نصاب میں میرے پاس اپنا تو کچھ نہیں
تیرا قرض ہے میری زندگی ، میری سانس تیری امانتیں

جِندے نی! تُوں کِیکن جَمّی
پیر پیر تے نِت بکھیڑے
جیون دی راہ لَمّی

جِندے نی! کِیہ لَچّھن تیرے
پَھنیئر نال یارانے وی نیں
جوگی وَل وی پھیرے

جِندے نی! کِیہ ساک سہیڑے
اِک بُکّل وِچ رانجھن ماہی
دُوجی دے وِچ کھیڑے

جِندے نی! کِیہ کارے کِیتے
آپے آس دے چولے پاڑے
آپے بِہہ کے سِیتے

جِندے نی! تک چیت وساکھاں
تُوں پِھردی ایں میل کُچیلی
دَس! تینُوں کِیہ آکھاں؟

جِندے نی! تیرا کارج کوڑا
سِر تے شَگناں والِیاں گھڑیاں
کَڈھ وچھایا ای پُھوہڑا

جِندے نی! تینُوں کیہڑا دَسّے
لُوں لُوں تیرا عیباں بَھریا
موت وٹیندی رَسّے

جِندے نی! تیرے ساہ نکارے
موئے مُونہہ نال آ بیٹھی ایں
جِیون دے دربارے

جِندے نی! کِیہ اَتّاں چائیاں
ہَس کھیڈن دی ویلھ نہ تینُوں
کردی پِھریں لڑائیاں

جِندے نی! کِیہ ویلے آئے
اِک دُوجے دی جان دے وَیری
اِکّو ماں دے جائے

جِندے نی! تیرے جِیون ما پے
آپے ہَتّھیں ڈولی چاڑھن
آپے کَرَن سیاپے

جِندے نی! کِس ٹُونے کِیتے
دِل دریا تے نین سمندر
روون بیٹھے چُپ چپِیتے

جِندے نی! کِیہ کھیڈاں ہوئیاں
پیو پُتراں دے پیرِیں پے کے
مانواں دِھیاں روئیاں

جِندے نی! کِیہ کاج کمائے
جِنّے وی تُوں سنگ سہیڑے
رُوح دے میچ نہ آئے

جِندے نی! کِیہ ہونیاں ہوئیاں
عِشقے دے گھر رہ کے اَکّھیاں
نہ ہَسیاں نہ روئیاں

جِندے نی! تیرے ساہ کچاوے
روز دیہاڑے مرنا پیندا
فیر وی موت ڈراوے
مرشد سے کہا درد محبت کی دوا دو
حضرت نے مسکرا کے کہا اور محبت

Love


O Love! thou makest all things even
In earth or heaven;
Finding thy way through prison-bars
Up to the stars;
Or, true to the Almighty plan,
That out of dust created man,
Thou lookest in a grave,--to see
Thine immortality!

Sarah Flower Adams

A Psalm of Life





Tell me not, in mournful numbers,
Life is but an empty dream!
For the soul is dead that slumbers,
And things are not what they seem.

Life is real! Life is earnest!
And the grave is not its goal;
Dust thou art, to dust returnest,
Was not spoken of the soul.

Not enjoyment, and not sorrow,
Is our destined end or way;
But to act, that each to-morrow
Find us farther than to-day.

Art is long, and Time is fleeting,
And our hearts, though stout and brave,
Still, like muffled drums, are beating
Funeral marches to the grave.

In the world’s broad field of battle,
In the bivouac of Life,
Be not like dumb, driven cattle!
Be a hero in the strife!

Trust no Future, howe’er pleasant!
Let the dead Past bury its dead!
Act,— act in the living Present!
Heart within, and God o’erhead!

Lives of great men all remind us
We can make our lives sublime,
And, departing, leave behind us
Footprints on the sands of time;

Footprints, that perhaps another,
Sailing o’er life’s solemn main,
A forlorn and shipwrecked brother,
Seeing, shall take heart again.

Let us, then, be up and doing,
With a heart for any fate;
Still achieving, still pursuing,
Learn to labor and to wait.

Henry Wadsworth Longfellow


تیرے آ جانے سے رنگ نکھرتے ہیں
ورنہ کس کو شام سہانی لگتی ہے

نوید صدیقی 
چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
میں اس عشق میں جلتی ہوئی شمع کی اور ذرۂ حیراں کی طرح ہمشیہ فریاد کر رہا ہوں
نہ آنکھوں میں نیند، نہ تن کو چین کہ نہ تو وہ خود آتے ہیں اور نہ ہی کوئی پیغام بھیجتے ہیں
امیر خسرو
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
قدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں پر میلے کتبے
دلوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیں
شفق کی ٹھنڈی چھاؤں سے راکھ اُڑ رہی ہے
جگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے
جگہ جگہ ڈھیر ہو گئیں ہیں عظیم صدیاں
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
یہیں مقدس ہتھیلیوں سے گری ہے مہندی
دیوں کی ٹوٹی ہوئی لویں زنگ کھا گئی ہیں
یہیں پہ ہاتھوں کی روشنی جل کے بُجھ گئی ہے
سپاٹ چہروں کے خالی پنے کُھلے ہوئے ہیں
حروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
یہیں کہیں
زندگی کے معنی گرے ہیں اور گِر کے
کھو گئے ہیں
گلزار
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
قدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں پر میلے کتبے
دلوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیں
شفق کی ٹھنڈی چھاؤں سے راکھ اُڑ رہی ہے
جگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے
جگہ جگہ ڈھیر ہو گئیں ہیں عظیم صدیاں
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
یہیں مقدس ہتھیلیوں سے گری ہے مہندی
دیوں کی ٹوٹی ہوئی لویں زنگ کھا گئی ہیں
یہیں پہ ہاتھوں کی روشنی جل کے بُجھ گئی ہے
سپاٹ چہروں کے خالی پنے کُھلے ہوئے ہیں
حروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں
میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
یہیں کہیں
زندگی کے معنی گرے ہیں اور گِر کے
کھو گئے ہیں
گلزار
ہم خوابوں کے بیوپاری تھےپر اس میں ہوا نقصان بڑا
کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی کچھ غضب کا کال پڑا
ہم راکھ لئے ہیں‌جھولی میں‌اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا
جب دھرتی صحرا صحرا تھی ہم دریا دریا روئے تھے
جب ہاتھ کی ریکھائیں چُپ تھیں اور سُرسنگیت میں کھوئے تھے
تب ہم نے جیون کھیتی میں کچھ خواب انوکے بوئے تھے
کچھ خواب سجل مسکانوں کےکچھ بول بہت دیوانوں کے
کچھ نیر و وفا کی شمعوں کے کچھ پاگل پروانوں کے
کچھ لفظ جنہیں معنی نہ ملیں کچھ گیت شکستہ جانوں کے
پھر اپنی گھائل آنکھوں سے خوش ہوکے لہو چھڑکایا تھا
ماٹی میں ماس کی کھاد بھری اور نس نس کو زخمایا تھا
جب فصل کٹی تو کیا دیکھا،کچھ درد کے ٹوٹے گجرے تھے
کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پرکچھ خاکستر سے گجرے تھے
اور دور اُفق کے ساگر میں کچھ ڈولتے ڈولتے بجرے تھے
اب پاوں کھڑاوں دھول بھری اور تن پہ جوگ کا چولا ہے
سب سنگی ساتھی بھید بھرے کوئی ماشہ ہے کوئی تولہ ہے
اب گھاٹ ہے نہ گھر دہلیز ہے نہ در اب پاس رہا کیا ہے بابا
بس اک تن کی گٹھڑی باقی ہے جا یہ بھی تو لے جا بابا
ہم بستی کو چھوڑے جاتے ہیں تو اپنا قرض چکا بابا
احمد فراز
رات دن خواب بنتی ہوئی زندگی
دل میں نقد اضافی کی لو
آنکھ بارِ امانت سے چُور
موج خوں بے نیاز مآل
دشت بےرنگ سے درد کے پھول چُنتی ہوئی زندگی
خوف و اماندگی سے حجل
آرزوؤں کے آشوب سے مضمحل
منہ کے بل خاک پر آ پڑی
ہر طرف اک بھیانک سکوت
کوئی نوحہ نہ آنسونہ پھول
حاصل جسم و جاں بے نشاں رہ گزاروں کی دھول
اجنبی شہر میں
خاک برسر ہوئی زندگی
کیسی بے گھر ہوئی زندگی
افتخار عارف
محبت پلکوں پہ کتنے حسین خواب سجاتی ہے
پھولوں سے مہکتے خواب
ستاروں سے جگمگاتے خواب
شبنم سے برستے خواب
پھر کبھی یوں بھی ہوتا ہے
کہ پلکوں کی ڈالیوں سے
خوابوں کے سارے پرندے اڑ جاتے ہیں
اور آنکھیں ۔۔۔
حیران سی رہ جاتیں ہیں
جاوید اختر 
A pious one with a hundred beads on your rosary,
or a drunkard in a tavern,
any gift you bring the Beloved will be accepted
as long as you come in longing.
It is this most secret pain,
this bleeding separation,
which will guide you to your Heart of Hearts.
Abu-Said Abil-Kheir

My Luve

O my Luve's like a red, red rose
That's newly spring in June;
O my Luve's like the melodie
That's sweetly played in tune.
As fair art thou, my bonnie lass,
So deep in luve am I;
And I will luve thee still, my dear,
Till a' the seas gang dry:
Till a' the seas gang dry, my dear,
And the rocks melt wi' the sun;
I will luve thee still, my dear,
While the sands o' life shall run.
And fare thee weel, my only Luve,
And fare thee weel awhile!
And I will come again, my Luve,
Tho' it ware ten thousand mile.