Tuesday, 5 May 2015




جھاڑ کر گردِ غمِ ہستی کو اُڑ جاؤں گی میں
بے خبر! ایسی بھی اِک پرواز آتی ہے مُجھے !


سجاتا رہتا ہوں ۔۔۔۔۔ کاغذ کے پھول پیڑوں پر
میں تتلیوں کو پریشان کرتا رہتا ہوں
اسد بدایونی


ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﮬﺮ ﭘﻞ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻭﮌﺍﮞ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺩﯾﺎﮞ ﺗﮭﻮﮌﺍﮞ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻠﮯ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺗﻮﮞ ﺗﮭﻠﮯ

پوچھا کہ برقِ نور چمکتی ہے کس طرح
پردہ اٹھا کے یار نے مکھڑا دکھا دیا

دل! رات کس کی یاد تھی کیسا ملال تھا؟
صدقے میں، کچھ تو بول تُو کیا تجھ پہ حال تھا
قائم چاند پوری

کیا دیکھتا ہے؟ ، ہاتھ مرا چھوڑ دے طبیب
یاں جان ہی بدن میں نہیں، نبض کیا چلے
لے جائیں تیرے کشتہ کو جنت میں بھی اگر
پھر پھر کے تیرے گھر کی طرف دیکھتا چلے
استاد ابراہیم ذوق




فصلِ گُل میں بھی رہے کنجِ قفس کے ہی اسیر
ہم گرفتاروں نے کس روز پر افشانی کی؟
مصحفی


پھر لے آیا دل


پھر لے آیا دل مجبور کیا کیجئے
راس نہ آیا رہنا دور کیا کیجئے
دل کہہ رہا اسے مکمّل کر بھی آؤ
وہ جو ادھوری سی بات باقی ہے
وہ جو ادھوری سی یاد باقی ہے
کرتے ہیں ہم آج قبول کیا کیجئے
ہو گئی تھی جو ہم سے بھول کیا کیجئے
دل کہہ رہا اسے میسر کر بھی آؤ
وہ جو دبی سی آس باقی ہے
وہ جو دبی سی آنچ باقی ہے
قسمت کو یہ منظور کیا کیجئے
ملتے رہیں ہم بدستور کیا کیجئے
دل کہہ رہا اسے مسلسل کر بھی آؤ
وہ جو رُکی سی راہ باقی ہے
وہ جو رُکی سی چاہ باقی ہے
پھر لے آیا دل مجبور کیا کیجئے
راس نہ آیا رہنا دور کیا کیجئے

جوک در جوک تمناؤں کے دھوکے کھا کر
دل اگر اب بھی دھڑکتا ہے تو پھر پاگل ہے


حافظ اگر سجدہ تو کرد مکن عیب
کافرِ عشق اے صنم گناہ ندارد

حافظ شیرازی

حافظ نے اگر تجھے سجدہ کیا تو کوئی عیب نہیں
کہ اے صنم عشق کے کافر پر کوئی گناہ نہیں ہوتا


سو تخیّل کے آئینے بدلے

عکس اس کا ہی جا بجا نکلا

آشوب آگہی

جیسے دریا کنارے
کوئی تشنہ لب
آج میرے خدا
میں یہ تیرے سوا اور کس سے کہوں
میرے خوابوں کے خورشید و مہتاب سب
میرے آنکھوں میں اب بھی سجے رہ گئے
میرے حصے میں کچھ حرف ایسے بھی تھے
جو فقط لوح جاں پر لکھے رہ گئے

ادا جعفری