کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ
شام کا وقت ہے میاں۔۔چپ رہ
شام کا وقت ہے میاں۔۔چپ رہ
ہو گیا قصۂ وجود تمام
ہے اب آغازِ داستاں۔۔چُپ رہ
ہے اب آغازِ داستاں۔۔چُپ رہ
میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں
تُو بھی جاناں نہیں یہاں۔۔چُپ رہ
تُو بھی جاناں نہیں یہاں۔۔چُپ رہ
تُو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
تُو بھی اب تو نہیں وہاں۔۔چپ رہ
تُو بھی اب تو نہیں وہاں۔۔چپ رہ
ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
یاں ہے انساں بھی رائگاں۔۔چُپ رہ
یاں ہے انساں بھی رائگاں۔۔چُپ رہ
سارا سودا نکال دے سر سے
اب نہیں کوئی آستاں۔۔چُپ رہ
اب نہیں کوئی آستاں۔۔چُپ رہ
اہرمن ہو۔۔خدا ہو۔۔یا آدم
ہو چکا سب کا امتحاں۔۔چُپ رہ
ہو چکا سب کا امتحاں۔۔چُپ رہ
درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے
تُو نہیں اپنے درمیاں۔۔چُپ رہ
تُو نہیں اپنے درمیاں۔۔چُپ رہ
اب کوئی بات تیری بات نہیں
نہیں تیری۔۔تری زباں۔۔چُپ رہ
نہیں تیری۔۔تری زباں۔۔چُپ رہ
ہے یہاں ذکر حالِ موجوداں
تُو ہے اب از گزشتگاں۔۔چُپ رہ
تُو ہے اب از گزشتگاں۔۔چُپ رہ
ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
دل ہوا جونؔ بے اماں چُپ رہ
دل ہوا جونؔ بے اماں چُپ رہ
"جون ایلیا"
No comments:
Post a Comment