Monday, 21 September 2015

سِر تے گھُپ ہنیر تے دھرتی اُتے کال
پیریں کنڈے زہر دے لہُو وچ بھجے وال
جتن کرو کُجھ دوستو ، توڑو موت دا جال
پھَڑ مُرلی اوئے رانجھیا،کڈھ کوئ تکِھی تان
مار کوئ تیر اوئے مِرزیا،کھچ کے وَل اَسمان

“At a distance you only see my light... Come closer and know that I am You.”
⊙ Jalal Ud Deen Rumi ♡ ♡ ♡
ظاہر شمال میں کوئی تارا ہُوا تو ہے
اِذنِ سفر کا ایک اشارا ہُوا تو ہے
کیا ہے، جو رکھ دیں آخری داؤ میں نقدِ جاں
ویسے بھی ہم نے کھیل ہارا ہُوا تو ہے
وہ جان، اس کو خیر خبر ہے بھی یا نہیں
دِل ہم نے اس کے نام پہ وارا ہُوا تو ہے
پاؤں میں نارسائی کا اِک آبلہ سہی
اس دشتِ غم میں کوئی ہمارا ہُوا تو ہے
اس بے وفا سے ہم کو یہ نِسبت بھی کم نہیں
کچھ وقت ہم نے ساتھ گزارا ہُوا تو ہے
اپنی طرف اٹھے نہ اٹھے اس کی چشمِ خوش
امجدؔ! کسی کے درد کا چارا ہُوا تو ہے
امجد اسلام امجدؔ

گهٹن پهر کس طرح کم ہو کہ اک چهوٹے سے کمرے میں
کہیں ہم خواب رکھتے ہیں، کہیں تعبیر رکھتے هیں


خود سے ملتی نہیں نجات ہمیں
قید رکھتی ہیں خواہشات ہمیں
میں نے مانگی سکون کی چادر
رنج بولے کہ بیٹھ، کات ہمیں
کچھ تو عادت ہے بے یقینی کی
اور کچھ ہیں تحیرات ہمیں
اس تعلق کا سچ قبول کیا
جوڑتی ہیں ضروریات ہمیں
یونہی جھگڑا طویل ہوتا گیا
سُوجھتی جا رہی تھی بات ہمیں
حمیدہ شاہین


"The fault is in the one who blames. Spirit sees nothing to criticize."
~ Jalal Ud Deen Rumi ♡ ♡ ♡