Tuesday, 4 March 2014

ﻧﺼﺎﺏِ ﺟﺎﮞ


ﮐﺘﺎﺏِ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ 
ﻧﺼﺎﺏِ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﺰﮐﺮﮮ ﻧﮧ ﮔﺌﮯ



ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ


ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ

آپے لائیاں کنڈیاں تیں آپے کھچدا ہیں ڈور
ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ

عرش کرسی تے بانگاں ملیاں مکے پے گیا شور
ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ

ڈولی پا کے لے چلے کھیڑے موڑ وے پیاریا
ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ

جے مائے تینوں کھیڑے پیارے ڈولی پاویں ہور
ساڈے ول مکھڑا موڑ وے پیاریا ساڈے ول مکھڑا موڑ

بلھا شاہ اساں مرنا ناہیں وے مر گیا کوئی ہور


Monday, 3 March 2014

آنس تم بھی سامنے رکھ کرآئینہ


آنس تم بھی سامنے رکھ کرآئینہ

زورسے اک آواز لگاؤ ،لوٹ آؤ!

آنس معین


جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا


جب زہر کا کسی کو پیالا دیا گیا
سقراط کا یا میرا حوالا دیا گیا

کیا کیا نہ یاد آئے تھے ہجر کے دُکھ مجھے
جب پنچھیوں کو دیس نکالا دیا گیا

توڑا ہزار بار شبوں کے غرور کو
جگنو سے جب تلک اُجالا دیا گیا

نیزے میں میرا جسم پِرونے کے واسطے
مجھ کو فلک کے سمت اُچھالا دیا گیا

دیمک زدہ زبانیں، ہوس کے اسیر لوگ
مجھ کو تو عہدِ فن بھی نرالا دیا گیا

شاید میں شہر کا نہیں جنگل کا ہوں مکین
تلوار دی گئی ہے بھالا دیا گیا ہے

صحرا تمھاری آنکھ میں کیوں نقش ہو گیا
تم کو تو شہر چاہنے والا دیا گیا

اک دُکھ کی پروریش کے لیے عمر بھر نثار
ایندھن بدن کا، خون کا نوالا دیا گیا

آغا نثار


رَد ھوئے ہر جگہ تب کہیں جا کے ھم




رَد ھوئے ہر جگہ تب کہیں جا کے ھم
عشق زادوں کی صحبت کے لائق ھوئے

افتخار فلک کاظمی


ابھی تو زندگی حائل ہے تجھ سے ملنے میں


ابھی تو زندگی حائل ہے تجھ سے ملنے میں
میں آج رات یہ دیوار بھی گرادُوں گا............

لہو میں ڈوبے ہوئے ، خاک میں نہائے ہوئے


لہو میں ڈوبے ہوئے ، خاک میں نہائے ہوئے
یہ کون لوگ ہیں دنیائے غم پہ چھائے ہوئے

گزر گیا ہے کوئی دن دعائے صبر کے ساتھ
گزر گئی ہے کوئی شب دیا بجھائے ہوئے

ہمارا کیا کسی خورشید سے ہو ربط کہ ہم
تیرے چراغ کی لو سے ہیں لو لگائے ہوئے

حسین یوں تیری بانہوں میں ہے علی اصغر
کہ جیسے کوئی ہو دست دعا اٹھائے ہوئے

یہ بوجھ طوق و رسن کا نہیں حیا کا ہے
نبی کی آل کھڑی ہے جو سر جھائے ہوئے

کسی کی تشنہ لبی کا ہے تذکرہ شہزاد
ہماری آنکھ میں لگتے ہیں اشک آئے ہوئے

قمر رضا شہزاد



تمہيں ميں کس طرح ديکھوں؟


تمہيں ميں کس طرح ديکھوں؟

دريچہ ہے دھنک کا اور اِک بادل کي چلمن ہے
اور اس چملن کے پيچھے چھپ کے بيٹھے
کچھ ستارے ہيں
ستاروں کی نگاہوں ميں عجيب سی ايک اُلجھن ہے
وہ ہم کو ديکھتے ہيں اور پھر آپس ميں کہتے ہيں
يہ منظر آسماں کا تھا، يہاں پر کس طرح پہنچا؟
زميں زادوں کی قسمت ميں يہ جنت کس طرح آئی؟
ستاروں کی يہ حيرانی سمجھ ميں آنے والی ہے
کہ ايسا دلنشيں منظر کسی نے کم ہی ديکھا ہے
ہمارے درمياں اس وقت جو چاہت کا موسم ہے
اسے لفظوں ميں لکھيں تو کتابيں جگمگا اُٹھيں
جو سوچيں اس کے بارے ميں تو روحيں گُنگنا اُٹھيں
يہ تم ہو ميرے پہلو ميں
کہ خوابِ زندگی، تعبير کی صورت ميں آيا ہے؟
يہ کِھلتے پھول سا چہرہ
جو اپنی مسکراہٹ سے جہاں ميں روشني کر دے
لہو ميں تازگی بھر دے
بدن اک ڈھير ريشم کا
جو ہاتھوں ميں نہيں رکتا
انوکھی سی کوئی خوشبو کہ آنکھيں بند ہو جائيں
سخن کی جگمگاہٹ سے شگوفے پھوٹتے جائيں
چھپا کاجل بھری آنکھوں ميں کوئی راز گہرا ہے
بہت نزديک سے ديکھيں تو چيزيں پھيل جاتی ہيں
سو ميرے چار سُو دو جھيل سی آنکھوں کا پہرا ہے
تمہيں ميں کس طرح ديکھوں؟]


میں خود یہ چاہتا ھوں کہ حالات ھوں خراب


میں خود یہ چاہتا ھوں کہ حالات ھوں خراب
میرے خلاف زھر اُگلتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھرے کوئی

جون ایلیا


عجیب لوگ


عجیب لوگ

اداسی کے ہزاروں زاویے ہیں
تجھے دیکھوں میں کس کس زاویے سے
ترے چہرے پہ سرسوں پھولتی ہے
مری آنکھوں میں جلتے ہیں دیے سے

مگر وہ لوگ بھی مجھ سے ملے ہیں
جو روئے ہیں نہ جن کے لب ہلے ہیں

قتیل شفائی

آنکھیں


چراغ و طاق میں بیدار ھو گئیں آنکھیں
بافیضِ عشق سمجھدار ھو گئیں آنکھیں

تمھارا عکس اُتارا ھے مداتوں اِس میں
عجب نہیں ھے جو تہدار ھو گئیں آنکھیں

یہ سوتے جاگتے جو خواب دیکھنے لگی ہیں
جانبِ عشق سے دوچار ھو گئیں آنکھیں

یہ جان لیتی ہیں سب حالتیں تیرے دل کی
مُراد یہ ھے اُوتار ھو گئیں آنکھیں

نہ لوٹنے کو تھا جانا کسی کو ساتھ اُس کے
سو بن بتائے ہی تیار ھو گئیں آنکھیں

ندیم ناجد



دل کو ہم سمجھا کے لائے کوئے جاناں سے حسن


دل کو ہم سمجھا کے لائے کوئے جاناں سے حسن
دل ہمیں سمجھا بجھا کر، کوئے جاناں لے چلا

حسن رضا بریلوی 

بچھڑ رہا تھا وہ مجھ کو بے وٖفا کہہ کے


بچھڑ رہا تھا وہ مجھ کو بے وٖفا کہہ کے
میں حیرتوں کے سمندر سے اُس کو دیکھتا تھا

عبدالغفور صابو


پھر ہوے ہیں گواہ عشق طلب


پھر ہوے ہیں گواہ عشق طلب
اشک باری کا حکم جاری ہے

مرزا اسداللہ غالب 

آوارہ ء شب روٹھ گئے


آوارہ ء شب روٹھ گئے

کیا جانیے ہر آن بدلتی ہوئی دنیا
کب دل سے کوئی نقش مٹانے چلی آئے
در کھول کے اک تازہ تحیّر کی خبر کا
چپکے سے کسی غم کے بہانے چلی آئے

کہتے ہیں کہ اب بھی تری پھیلی ہوئی باہیں
اک گوشۂ تنہائی میں سمٹی ہوئیں اب تک
زنجیرِ مہ و سال میں لپٹی ہوئیں اب تک
اب اور کسی چشم پہ وَا تک نہیں ہوتیں
خُود اپنے ہی عالم سے جدا تک نہیں ہوتیں
سُنتے ہیں کہ اب بھی ترے آنچل کی ہوا سے
الجھا ہوا رہتا ہے کسی یاد کا دامن
اب بھی تری آنکھوں سے غبارِ مہ و انجم
اڑتا ہے کہیں ابرِ گریزاں کی طلب میں
اب بھی ترے ہونٹوں پہ محبت کا الاؤ
جلتا ہے پئے لمس کہیں حجلۂ شب میں !

وہ دن بھی عجب تھے کہ کسی لہر میں سب سے
کہتے ہوئے پھرتے تھے اسی شہر میں سب سے
صحرا بھی ہمارا ہے تو جل تھل بھی ہمارا
اس آنکھ میں پھیلا ہوا کاجل بھی ہمارا
شانوں پہ مہکتی ہوئی وہ زلف ہماری
اور اس سے ڈھلکتا ہوا آنچل بھی ہمارا

یہ دن بھی عجب ہیں کہ رگ و پے میں شب و روز
پھیلا ہوا اک تازہ تغیر کا فسُوں ہے
اب بھی اسی پابندئ آئین جنُوں میں
اپنا سرِ بازار وہی رقصِ جنوں ہے
گزرا ہوا لمحہ ھی ہم آغوش تھا ہم سے
یہ پل جو گزرنے کو ہے یہ پل بھی ہمارا
ہم آج کے بارے ہی میں خوش فہم نہیں ہیں
جو تجھ کو یقیں آئے تو ہے کل بھی ہمارا
وحشت وہی رشتہ بھی وہی دربدری سے
آوارہء شب روٹھ گئے تیری گلی سے

سلیم کوثر



جب سے تیرے وجود سے نکلے


جب سے تیرے وجود سے نکلے
ہم حدود و قیود سے نکلے

دائرے میں سما گئی دُنیا
تیرے بندے حدود سے نکلے

عشق تیرا ہے، ہم بھی تیرے ہیں
ہم میں کیوں پھر صمود سے نکلے ؟

خوشبوں کے دوام کی خاطر
کچھ شگوفے نمود سے نکلے

لوگ نفعِ نقدمیں ڈوبے
ہم جو صابر تھے، سود سے نکلے

صابر بلوچ



In those days

"In those days
before a trace
of the two worlds,
no "other" yet imprinted
on the Tablet of Existence,
I, the Beloved, and Love
lived together
in the corner
of an uninhabited
cell."

~ Fakhr Ud Deen Iraqi

;)


آئینہ بھی ان پہ شیدا ھوگیا
ایک دشمن اور پیدا ھوگیا

عشق


اک مرے عشق کی تشنگی اور تو،
اک ترے ہجر کی آبجو اور میں!

یمِ فرات رواں ہے میانِ دیدہ و دل

یمِ فرات رواں ہے میانِ دیدہ و دل
نہ دامنوں کو خبر ہے نہ آستینوں کو

نصیر تّرابی 

"ﺷﺐِ ﺑﺨﯿﺮ"


ﺍﻭﺭ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺝ
ﻣﺘﺎﻉِ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﻟﻔﻆ ﮨﯿﮟ
"ﺷﺐِ ﺑﺨﯿﺮ"
ﺁﺝ ﯾﮩﯽ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ

اسی عشق بنایا پیر وے بیلیا


اسی عشق بنایا پیر وے بیلیا
اسی عشق بنایا پیر

زخماں دے وچ کنڈیاں پایاں
تے
چھالیاں دے وچ کچ
ٹر ٹر رستے کالے کیتے
پیلے کیتے
پیلا کیتا لہو

جاگ جاگ کے اکھیں ساڑیاں
تے
رو رو ساڑیا دل
آپڑیں ہتھیں آپے ٹھوکے سدھراں دے وچ کل
اپنا آپ بیگانہ کیتا
مٹی لایا مل.
ساہ ساہ نال آری بن کے سینہ دتا چیر
کیتی آنرڑ اخیر وے
بیلیا
کیتی آنرڑ اخیر
اساں عشق بنایا پیر وے بیلیا 

ممتاز مفتی


داتا صاحب نے کبھی کسی سائل سے یہ نہیں پوچھا تھا کہ میاں تُو ہندو ہے یا مسلمان۔ وہ صرف دینا جانتے تھے اور "وہ واحد قادر مطلق"، جو دینے پر قادر ہے، اپنے "چاکر" کی لاج رکھتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند سالوں میں آدھا لاہور مسلمان ہوگیا۔ متعّصب لوگ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے۔ وہ سچ کہتے ہیں، لیکن! یہ تلوار فولاد کی نہیں، اسلامی کردار کی تھی !

ممتاز مفتی کی کتاب "تلاش" سے اقتباس

اشفاق احمد

باباجی کہتے ہیں پتر درد وہ ہوتا ہے جو ہمیں دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر ہوورنہ اپنا درد تو جانوروں کو بھی محسوس ہوتا ہے

اشفاق احمد

عشق کا جام

عشق کا جام

قریہ و ساعت و دھڑکن کی قسم
تیرے قدموں کی قسم
پاؤں کے ناخن کی قسم
کر نہ پاؤں گا کسی طور تجھے دل سے جُدا

تُو میرا عشق ہے اور عشق سے ملتا ہے خُدا۔۔۔۔!

قریہ و ساعت و دھڑکن کے دریچے سے تُو اب
آنکھ سے آنکھ مل، کھول یاقوت سے لب
صاحبِ عشق کا بھیجا ہوا فرمان سُنا

میرا مطلب ہے مجھے عشق کا قرآن سُنا۔۔۔۔۔!!

سورہِ نور کو چُھو اور جبیں پر میری
اپنے ہی نام کو لکھ اور میرے ہاتھ کو تھام

اپنے ہاتھوں سے پلا آج مجھے عشق کا جام۔۔۔۔۔!!!
اپنے ہاتھوں سے پلا آج مجھے عشق کا جام۔۔۔۔۔!!!!

ندیم ناجد

Torn Heart, Sore Burn

Torn Heart, Sore Burn

From the torn heart, from this sore burn-
to The Beloved, Beloved, I turn, I turn!

Seeking shelter, refuge, retreating to the caverns, the caves!
My Maestro, My Guru! Gather me, gather me in! Save! Save!

You! You are the only Beloved, lifting, soaring my heart!

You are the shelter, The Shelter I sought!

You! My Noah! My Soul! You are the conquer! You, the conquest!
You! You're my severed heart! You, my sliced-open chest-
in front of the walls and cells, the locked, closed-gates!

You, the lone light! The festive feast! The only feat to defeat- the ache and pain!
You are the flock of birds in Sinai sky, shielding the mounts in chain!
You are all the ocean! You are- just a drop of rain!

The mercy is You! You, The wrath! You, The sentinel, The Guard of my sore!
You, the bitter taste! The luscious is you! Hurt me, hurt me no more!

You, the Sun! You, the seat of the Morning Star! The seas and the shore!
You, The Garden of Hope! Let me in, let me in! Show me not- to the door!

You are the riches, the wealth!
You are the drought! You are the dearth!
You! You're the earnings- of the drifters, beggars!
You are just a sip! You are all the jars!
Let me, let me drink for once!

The bait, the trap! The pray is you! You, The hunter! True!
You are the wine! You are the opium! You, you all the cups too!
You, the Plain, the raw! The garnished is you! The adorned is you!

Oh, oh, My Flesh! My Flesh!
Will you flee away? You, leading astray!
I departed, I left! I marched on the way, all night and day!
This verse is not granted, it is the award- to the ones who stay!


~ Jalal Ud Deen Rumi 

میں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہا


میں سرِ عرش بھی پہنچا تو سرِ فرش رہا
کائناتوں کے سب امکاں مرے اندر ضم تھے

اسداللہ غالب


پھر ہوے ہیں گواہ عشق طلب
اشک باری کا حکم جاری ہے

مرزا اسداللہ غالب