Tuesday, 20 October 2015

دل لہو ہو رہا ہے جانم جی

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی
یونہی باتیں بناتے ہیں ہم جی
کیا بھلا آستین اور دامن
کب سے پلکیں بھی اب نہیں نم جی
اُس سے اب کوئی بات کیا کرنا
خود سے بھی بات کیجیے کم کم جی
دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھا
اب ہے درہم جی اور برہم جی
بات بے طَور ہو گئی شاید
زخم بھی اب نہیں ہے مرہم جی
ہار دنیا سے مان لیں شاید
دل ہمارے میں اب نہیں دم جی
آپ سے دل کی بات کیسے کہوں
آپ ہی تو ہیں دل کے محرم جی
ہے یہ حسرت کہ ذبح ہو جاؤں
ہے شکن اس شکم کی ظالم جی
کیسے آخر نہ رنگ کھیلیں ہم
دل لہو ہو رہا ہے جانم جی
وقت دم بھر کا کھیل ہے اس میں
بیش از بیش ہے کم از کم جی
ہے ازل سے ابد تلک کا حساب
اور بس ایک پل ہے پیہم جی
بے شکن ہو گئی ہیں وہ زلفیں
اس گلی میں نہیں رہے خم جی
دشتِ دل کا غزال ہی نہ رہا
اب بھلا کس سے کیجیے رَم جی
جون ایلیا

No comments:

Post a Comment