Friday, 23 October 2015


مشورہ جو بھی ملا ہم نے وہی مان لیا
عشق میں اچھے بُرے سب ہی کا احسان لیا

تم فقط خواہشِ دل ہی نہیں اب ضد بھی ہو
دل میں رہتے ہو تو پھر دل میں تمہیں ٹھان لیا

وہ مِرے گزرے ہوئے کل میں کہیں رہتا ہے
اِس لیے دور سے اُس شخص کوپہچان لیا

ہاتھ اُٹھایا تھا ستاروں کو پکڑ نے کے لیے
چرخ نے چاند کو خنجر کی طرح تان لیا

آزمایا ہی نہیں دوسرے جذبوں کوندیمؔ
اِس محبت کو ہی بس سب سے بڑا مان لیا

"ندیم بھابھہ"

No comments:

Post a Comment