Wednesday, 24 June 2015
میرا عشق اے سدا بہار..
تیرا روپ نہ جاوے ڈَھل..
پیار دا قصہ واصف کی اے ؟
ٹُٹی ٹہنی , سُکّے پَھل
تیرا روپ نہ جاوے ڈَھل..
پیار دا قصہ واصف کی اے ؟
ٹُٹی ٹہنی , سُکّے پَھل
واصف علي واصف
میں چٹیاں فجراں لبدی آں
مینوں گُھپ اندھیرے لبدے نے
مینوں دل دا محرم نیئں ملیا
مینوں یار بتھیرے لبدے نے!
مینوں گُھپ اندھیرے لبدے نے
مینوں دل دا محرم نیئں ملیا
مینوں یار بتھیرے لبدے نے!
ادھوری نظم
اندھیری شام کے ساتھی
ادھوری نظم سے زور آزما ہیں
برسرِ کاغذ بچھڑنے کو
سنو.......تم سے دلِ محزوں کی باتیں کہنے والوں کا
یہی انجام ہوتا ہے
کہیں سطرِ شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چت
کہیں حرفِ تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیں
سنو......ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پر
جو گزرے گی سو گزرے گی
مگر میں اک ادھوری نظم کے ہیجان میں کھویا
تمہیں آواز دیتا ہوں
کہ تنہا آدمی تخلیق سے عاری ہوا کرتا ہے
جانِ من!
سنو......میرے قریب آؤ
کہ مجھ کو آج رات اک ادھوری نظم پوری کر کے سونا ہے!
برسرِ کاغذ بچھڑنے کو
سنو.......تم سے دلِ محزوں کی باتیں کہنے والوں کا
یہی انجام ہوتا ہے
کہیں سطرِ شکستہ کی طرح ہیں چار شانے چت
کہیں حرفِ تمنا کی طرح دل میں ترازو ہیں
سنو......ان نیل چشموں سخت جانوں بے زبانوں پر
جو گزرے گی سو گزرے گی
مگر میں اک ادھوری نظم کے ہیجان میں کھویا
تمہیں آواز دیتا ہوں
کہ تنہا آدمی تخلیق سے عاری ہوا کرتا ہے
جانِ من!
سنو......میرے قریب آؤ
کہ مجھ کو آج رات اک ادھوری نظم پوری کر کے سونا ہے!
عباس تابش
" برکھا راگ"
برسا دے سائیاں
مینہ پیار کا، راگ یار کا پریم بھاگ کا برسا دے
جل تھل سی کر دے
دل مزار پر ،ریگزار ہر ،ُُپھول خار پر برسا دے
دل مزار پر ،ریگزار ہر ،ُُپھول خار پر برسا دے
رحمت کی برکھا
چار اَور سے ،زور شور سے ، خوب غور سے برسا دے
چار اَور سے ،زور شور سے ، خوب غور سے برسا دے
برسا دے سائیاں
تُو مہان ھے،یار جان ھے ، پریم دھیان ھے ، برسا دے
تُو مہان ھے،یار جان ھے ، پریم دھیان ھے ، برسا دے
جیون کی دھارا
ڈال ڈال پر ،حال قال پر،تیغ ڈھال پر برسا دے
ڈال ڈال پر ،حال قال پر،تیغ ڈھال پر برسا دے
خسرو کی کرپا
سبز رنگ سی ۔ من ملنگ سی، جلترنگ سی برسا دے
برسا دے سائیاں
سبز رنگ سی ۔ من ملنگ سی، جلترنگ سی برسا دے
برسا دے سائیاں
علی زریون
ﮬﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮬﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ
ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﺳﮯ
ﮨﺰﺍﺭ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮬﮯ
ﭘﯿﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ
ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﺳﮯ
ﮨﺰﺍﺭ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻞ ﺭﮨﺎ ﮬﮯ
ﭘﯿﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺟﻮ ﮐﺎﺭ ﺯﺍﺭ ﺫﻭﺍﻝ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﭖ
ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺁﮨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺭﮨﺎﮬﮯ
ﻧﻈﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﺁﮨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺭﮨﺎﮬﮯ
ﻧﻈﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺳﺤﺮ ﺗو ﺍﮎ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺳﺎ ﻏﻢ ﮬﮯ
ﻃﻮﯾﻞ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺣﻮﯾﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨهہر ﮔﺊ ﮬﮯ
ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺷﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﻃﻮﯾﻞ ﺩﻥ ﮐﯽ ﺣﻮﯾﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨهہر ﮔﺊ ﮬﮯ
ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺷﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ شہ ﭘﺮ ﮐﺊ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ
ﻣﺴﺎﻓﺮﺍﻥ ﺍﺑﺪ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﺮﺍﻕ ﺁﺛﺎﺭ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ
ﺳﻔﺮ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﮬﮯ
ﻗﯿﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺁﺱ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﻧﺮﺍﺱ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﺍﺩﺍﺳﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﺩﮐﮭ هے ،
ﻣﺴﺎﻓﺮﺍﻥ ﺍﺑﺪ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﮯ ﻓﺮﺍﻕ ﺁﺛﺎﺭ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﺮ
ﺳﻔﺮ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﮬﮯ
ﻗﯿﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﺁﺱ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﻧﺮﺍﺱ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﺍﺩﺍﺳﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﺩﮐﮭ هے ،
ﯾﮧ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﺟﻮ ﻋﺬﺍﺏ ﺑﻦ ﮐﺮ ﭨﮭﺮ ﮔﺊ
ﮬﮯ
ﺑﺪﻥ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﭘﺮ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﺩﻭﺍﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﮬﮯ
ﺑﺪﻥ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﭘﺮ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﮩﺪ ﺩﻭﺍﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﯾﮧ ﺷﻮﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﻮﺍ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺧﺮﺍﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﮬﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮬﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﮬﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮬﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﯾﮧ تم ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺒﮭﺎﺗﮯ ﮬﻮ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﻭﺻﻞ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﺍﮎ ﻣﺴﻠﺴﻞ
ﻣﻔﺎﻟﻄﮧ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﯾﮧ ﻭﺻﻞ ﻣﻮﺳﻢ ﺟﻮ ﺍﮎ ﻣﺴﻠﺴﻞ
ﻣﻔﺎﻟﻄﮧ ﮬﮯ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﺭﻓﺎﻗﺖ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﻧﻤﺎ ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺳﺰﺍ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻼﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺳﺰﺍ ﮬﮯ
ﻣﮕﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻼﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ،
ﮬﻤﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﮬﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﺩﮐﮫ ﮬﮯ
Saturday, 6 June 2015
اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو
گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا
گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا
ہماری خاک پہ اندھی ہوا کا پہرہ ہے
اسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا
اسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا
عباس تابش
آہستگی سے گھٹتی ہوئی سہ پہر کی دھوپ
دل میں اُتر رہی ہے کسی خواب کی طرح
نیلے فلک پہ ابر کے ٹکڑے کہیں کہیں
لرزاں ہیں دل کے ساز پہ مضراب کی طرح
صحنِ چمن میں ڈولتے رنگوں کے درمیاں
ہے ایک بے قرار سی خوشبو رُکی ہوئی
ٹھہرے ہوئے سے وقت کی سرگوشیوں کے بیچ
تتلی کوئی ہے پھول کے لب پر جھکی ہوئی
پتے صبا کے پاؤں کی آہٹ کے منتظر
شاخوں کے درمیاں کوئی حیرت رواں سی ہے
بیٹھی ہے یوں وہ گھاس پہ پھولوں کے روبرو
آنکھوں کے آس پاس کوئی کہکشاں سی ہے
چہرے پہ دھوپ چھاؤں کا میلہ لگا ہوا
شانوں پہ بے دریغ سے گیسو کھلے ہوئے
قوسِ قزح نے اپنا خزانہ لُٹا دیا
رنگت میں اس کی رنگ ہیں سارے گھُلے ہوئے
آہٹ پہ میرے پاؤں کی دھیرے سے چونک کر
دیکھا ہے اُس نے مڑ کے مجھے اد ادا کے ساتھ
پھیلی ہے جسم و جاں میں عجب ایک سر خوشی
خوشبو سی کوئی اُڑنے لگی ہے ہوا کے ساتھ
امجد اسلام امجد
جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ مَحبّت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
احمد فراز
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﮬﺮ ﭘﻞ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻭﮌﺍﮞ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﺣﻤﺖ ﺩﯾﺎﮞ ﺗﮭﻮﮌﺍﮞ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﻠﮯ
ﻭﮮ ﺳﺎﺋﯿﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺗﻮﮞ ﺗﮭﻠﮯ
دردِ دل
ہوئی رو رو کے سحر آج اُسے اور مجھے
کوئی جز شمع انیسِ شبِ ہجراں کب تھا
کوئی جز شمع انیسِ شبِ ہجراں کب تھا
ہو کے مایوس نہ کیوں دیتے مسیحا بھی جواب
دردِ دل آہ! مرا قابلِ درماں کب تھا
دردِ دل آہ! مرا قابلِ درماں کب تھا
منشی درگا پرشاد لائق
Subscribe to:
Posts (Atom)
















