زمیں سے پہلے زماں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
نظر سے پَرلے گماں سے پہلے ٰ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
نظر سے پَرلے گماں سے پہلے ٰ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
خدائے سادہ ! تمہیں خبر کیا ' یہ عشق کیا ہے؟ وفور کیا ہے ؟
گُھلی ہوئی خُوے جاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
گُھلی ہوئی خُوے جاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
یہاں تماشے میں آ گئے ہیں ' کسی لبادے میں آ گئے ہیں
مگر اِس اپنے زیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
مگر اِس اپنے زیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
یہ نفس کیا کچھ سِکھا رہا تھا ' مگر اسے مَیں بتا رہی تھی
وجود کے ہر بیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
وجود کے ہر بیاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
سفیدی شفّاف ہو رہی تھی ' زمیں پہ آباد ہو رہی تھی
ظہور تک ہر نہاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی' بس ایک تُم تھے
ظہور تک ہر نہاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی' بس ایک تُم تھے
خیال سیڑھی اتر رہا تھا ' تو خواب آنکھیں مسل رہے تھے
مگر کسی بھی اذاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
مگر کسی بھی اذاں سے پہلے ' بس ایک مَیں تھی ' بس ایک تُم تھے
"ثروتؔ زہرا"

No comments:
Post a Comment