نالہ حدودِ کوئے رسا سے گزر گیا
اب دَردِ دل علاج و دوا سے سے گزر گیا
اب دَردِ دل علاج و دوا سے سے گزر گیا
ان کا خیال بن گئیں سینے کی دھڑکنیں
نغمہ مقامِ صوت و صدا سے گزر گیا
نغمہ مقامِ صوت و صدا سے گزر گیا
اعجازِ بے خودی ہے کہ حُسنِ بندگی
اِک بُت کی جستجو میں خدا سے گزر گیا
اِک بُت کی جستجو میں خدا سے گزر گیا
انصاف سیم و زر کی تجلّی نے ڈس لیا
ہر جرم احتیاجِ سزا سے گزر گیا
ہر جرم احتیاجِ سزا سے گزر گیا
اُلجھی تھی عقل و ہوش میں ساغر رہ حیات
میں لے کے تیرا نام فنا سے گزر گیا
میں لے کے تیرا نام فنا سے گزر گیا
ساغر صدیقی ♡
No comments:
Post a Comment