Friday, 13 March 2015

"Leave that which is not, but appears to be; seek that which is, but is not apparent."
~ Jalal Ud Deen Rumi 
پرندے
پرندے وقت کا سب سے جُدا پیمانہ رکھتے ہیں
درختوں میں ہوا کی سر سراہٹ
دُھوپ میں سائے کی آہٹ سے
گزرتے وقت کا اندازہ کرتے ہیں
مہکتی ، مُسکراتی ساعتوں ، سرگوشیوں ، خاموش آوازوں کو
یہ ہمراز کرتے ہیں
قفس میں ، جال میں زندہ نہیں رہتے
وہ ماہ و سال میں زندہ نہیں رہتے
پرندے
آتے جاتے موسموں کے بیچ
لمحوں کی طرح
پرواز کرتے ہیں
حسن عابدی
وقفہ
رہگزر رہگزر
دُھوپ کے سلسلے
پانیوں کے لئے
سُلگتے ہوئے دشت
اپنی زمینوں سے ہٹتے رہے
گھنے جنگلوں میں بھٹکتی رہی
رات سو نہ سکی
درد کے دائرے
پھیلتے ہی رہے
اک زمانہ سے جاگی ہوئی آنکھ میں
نیند آجائے تو
یہ سفر ختم ہو
پھر کُھلے آنکھ تو
آسماں پر کہیں
کوئی سُورج ملے
زندگی کے لئے
شاہد عزیز
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
چلو چھوڑو
محسن نقوی

محبت دشتِ فرقت میں
بنا رختِ سفر چلتے کسی مجذوب کے دل سے نکلتا ایک
نوحہ ہے
امجد اسلام امجد