Saturday, 6 June 2015


جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ مَحبّت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
احمد فراز

No comments:

Post a Comment