Saturday, 6 June 2015




برقع برافگن اے پری حسن بلا انگیز را
تا کلک صورت بشکند این عقل رنگ آمیز را
اے پری چہرہ محبوب اپنے رخ زیبا سے حسن بلا انگیز کا نقاب ہٹا دے تاکہ عقل وخرد نے رنگ آمیزی کرکے جو صورت بنائی ہے قلم اسے توڑ ڈالے
پردہ بردار ازرخی کان مایئہ دیوانگی است
کز دماغ عاقلاں بیروں برد پندارھا
تو اپنے رخ سے پردہ ہٹادے جو ہم دیوانوں کے لئے اصل سرمایہ حیات ہے تاکہ ان عاقلوں کا غرور دماغ سے باہر نکل جائے
بنمای قد خویش کہ از بہر دیدنت
سر پر کنیم بخت نگونسار خویش را
اپنا قد دکھلا کیونکہ تیرے دیدار کے لئے ہم نے نصیبے کو سر سے اتار کر نیچے ڈال دیا ہے
آں روئے نازنین را یکدم بسوی من کن
تا بیشتر نہ بنیم نسرین و ارغواں را
تو روئے نازنیں کو یکدم میری جانب ظاہر کردے تاکہ میں پھر نسرین وارغواں کی خوشنمائیوں کی طرف زیادہ توجہ سے نہ دیکھ سکوں

حضرت امیر خسرو ؒ

No comments:

Post a Comment