برقع برافگن اے پری حسن بلا انگیز را
تا کلک صورت بشکند این عقل رنگ آمیز را
اے پری چہرہ محبوب اپنے رخ زیبا سے حسن بلا انگیز کا نقاب ہٹا دے تاکہ عقل وخرد نے رنگ آمیزی کرکے جو صورت بنائی ہے قلم اسے توڑ ڈالے
پردہ بردار ازرخی کان مایئہ دیوانگی است
کز دماغ عاقلاں بیروں برد پندارھا
تو اپنے رخ سے پردہ ہٹادے جو ہم دیوانوں کے لئے اصل سرمایہ حیات ہے تاکہ ان عاقلوں کا غرور دماغ سے باہر نکل جائے
بنمای قد خویش کہ از بہر دیدنت
سر پر کنیم بخت نگونسار خویش را
اپنا قد دکھلا کیونکہ تیرے دیدار کے لئے ہم نے نصیبے کو سر سے اتار کر نیچے ڈال دیا ہے
آں روئے نازنین را یکدم بسوی من کن
تا بیشتر نہ بنیم نسرین و ارغواں را
تو روئے نازنیں کو یکدم میری جانب ظاہر کردے تاکہ میں پھر نسرین وارغواں کی خوشنمائیوں کی طرف زیادہ توجہ سے نہ دیکھ سکوں
حضرت امیر خسرو ؒ
No comments:
Post a Comment