نجانے تم کہاں ہو
تمہاری آہٹیں اب بھی دھڑکتی ہیں
فضا میں ہواؤں کے پیالے میں
تمہاری سانس کی تلچھٹ ہے
باقی تمہارے جسم کی خوشبو
مِرے ماتھے کا بوسہ لے رہی ہے
میں اس کا ہاتھ پکڑے،ہر تعفّن پار کرتی جا رہی ہوں۔
بصارت میں ابھی تک ہے تمہاری دید زندہ
اسی سے ہے مِری آنکھوں میں اب تک نور باقی
تمہاری چشم ہائے دل کُشا کی روشنی
میرے چراغوں میں ہے اب تک
سما عت کے شجر میں ہیں تمہارے خوب صورت چہچہوں کے آشیانے
تمھاری دل رُبا سرگوشیوں کی گنگناہٹ
کو فنا نے کب چُھوا ہے
مساموں میں تمہارا لمس اب تک جاگتا ہے
زمانہ رفتگاں میں نام لیتا ہے تمہارا
مگر تم وہ شجر ہوجو زمیں سے کٹ کے بھی کٹتا نہیں ہے
تمہارا مہرباں سایہ مِرے سر سے کبھی ہٹتا نہیں ہے
یہیں ان کائناتی دائروں میں ہو کہیں تم
میں سانسوں کی اندھیری کوٹھڑی میں ہوں مقیّد
تمہیں اس سے رہائی مل چکی ہے
تمہیں جلدی تھی ،
تم نے بدن کا بوجھ مٹّی کے حوالے کر دیا ہے
ذرا سا ہجر ہے بس
حمیدہ شاہین

No comments:
Post a Comment