دھند ہی دھند ہےچارسو دھند ہےتا بہ حد نگاہ دھند کا راج ہے
دور تک دیکھنے کی ضرورت نہیں
جو بھی قربت میں ہے
اس کو محسوس کر
اس پہ اپنی توجہ کو مرکوز کر
کیا خبر دھند کے پار بھی
دھند ہی دھند ہو
دھند کو اوڑھ کر سفر معکوس کر
اپنے اندر اتر
موتیوں کے جزیرے کی پہچان کر
اپنی بے مائگی کی حدوں سے نکل
خود کو خوش حال کر
دھند کے ہر تصور کو پامال کر
No comments:
Post a Comment