Sunday, 29 November 2015


دھند ہی دھند ہے
چارسو دھند ہے
تا بہ حد نگاہ دھند کا راج ہے
دور تک دیکھنے کی ضرورت نہیں
جو بھی قربت میں ہے
اس کو محسوس کر
اس پہ اپنی توجہ کو مرکوز کر
کیا خبر دھند کے پار بھی
دھند ہی دھند ہو
دھند کو اوڑھ کر سفر معکوس کر
اپنے اندر اتر
موتیوں کے جزیرے کی پہچان کر
اپنی بے مائگی کی حدوں سے نکل
خود کو خوش حال کر
دھند کے ہر تصور کو پامال کر

No comments:

Post a Comment