رقص کر رقص ..!!
کہ یہ سوزش - دیرینہ تھمے..!!
معبد -جسم میں خواہش کی بھڑکتی آتش ..!!
ہجر کے سوگ میں روئی ہوئی آنکھوں کی جلن اور چبھن ..!!
پاؤں سے باندھی ہوئی دشت و بیاباں کی مسافت کی تھکن ..!!
کھول ..!!!!
کھول یہ بے سر و سامانی کی گٹھڑی اور دیکھ ..!!
کیسی نایاب تمناؤں کے اجلے موسم ..!!
کاسنی رنگ میں بھیگھے ہوئے خوابوں کے بدن ،
سانس گھٹ جانے سے مرنے لگے ہیں ..!!
سانس لے ..!!
اپنی خود ساختہ تنھائی کے سیلن زدہ اس غار سے باھر آ کر ...!!
دیکھ تو ..!!
خوشبوؤں اور محبّت سے مہکتی ہوئی حیرانی کو ،
عشق کی تازہ فراوانی کو ..!!
جذب کر ،
خوں میں اتار ،
اور اسے روح میں بھر ..!!!
رقص کر ،
رقص ..!!
علی زریون

No comments:
Post a Comment