Thursday, 18 February 2016


سُن سانسوں کے سلطان پیا
ترے ہاتھ میں میری جان پیا
میں تیرے بن ویران پیا
تو میرا کُل جہان پیا
مری ہستی، مان، سمان بھی تو
مرا زھد، ذکر، وجدان بھی تو
مرا، کعبہ، تھل، مکران بھی تو
میرے سپنوں کا سلطان بھی تو
کبھی تیر ہوئی، تلوار ہوئی
ترے ہجر میں آ بیمار ہوئی
کب میں تیری سردار ہوئی
میں ضبط کی چیخ پکار ہوئی
میرا لوں لوں تجھے بلائے وے
میری جان وچھوڑا کھائے وے
تیرا ہجر بڑا بے درد سجن
میری جان پہ بن بن آئے وے
تجھے ڈھونڈ تھکی نگری نگری
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کبھی میری عرضی مان پیا
میں چپ، گم سم، سنسان پیا
میں ازلوں سے نادان پیا
تو میرا کُل جہان پیا

No comments:

Post a Comment