تمہيں ميں کس طرح ديکھوں؟
دريچہ ہے دھنک کا اور اِک بادل کي چلمن ہے
اور اس چملن کے پيچھے چھپ کے بيٹھے
کچھ ستارے ہيں
ستاروں کی نگاہوں ميں عجيب سی ايک اُلجھن ہے
وہ ہم کو ديکھتے ہيں اور پھر آپس ميں کہتے ہيں
يہ منظر آسماں کا تھا، يہاں پر کس طرح پہنچا؟
زميں زادوں کی قسمت ميں يہ جنت کس طرح آئی؟
ستاروں کی يہ حيرانی سمجھ ميں آنے والی ہے
کہ ايسا دلنشيں منظر کسی نے کم ہی ديکھا ہے
ہمارے درمياں اس وقت جو چاہت کا موسم ہے
اسے لفظوں ميں لکھيں تو کتابيں جگمگا اُٹھيں
جو سوچيں اس کے بارے ميں تو روحيں گُنگنا اُٹھيں
يہ تم ہو ميرے پہلو ميں
کہ خوابِ زندگی، تعبير کی صورت ميں آيا ہے؟
يہ کِھلتے پھول سا چہرہ
جو اپنی مسکراہٹ سے جہاں ميں روشني کر دے
لہو ميں تازگی بھر دے
بدن اک ڈھير ريشم کا
جو ہاتھوں ميں نہيں رکتا
انوکھی سی کوئی خوشبو کہ آنکھيں بند ہو جائيں
سخن کی جگمگاہٹ سے شگوفے پھوٹتے جائيں
چھپا کاجل بھری آنکھوں ميں کوئی راز گہرا ہے
بہت نزديک سے ديکھيں تو چيزيں پھيل جاتی ہيں
سو ميرے چار سُو دو جھيل سی آنکھوں کا پہرا ہے
تمہيں ميں کس طرح ديکھوں؟]

No comments:
Post a Comment