Monday, 3 March 2014

جب سے تیرے وجود سے نکلے


جب سے تیرے وجود سے نکلے
ہم حدود و قیود سے نکلے

دائرے میں سما گئی دُنیا
تیرے بندے حدود سے نکلے

عشق تیرا ہے، ہم بھی تیرے ہیں
ہم میں کیوں پھر صمود سے نکلے ؟

خوشبوں کے دوام کی خاطر
کچھ شگوفے نمود سے نکلے

لوگ نفعِ نقدمیں ڈوبے
ہم جو صابر تھے، سود سے نکلے

صابر بلوچ



No comments:

Post a Comment