Tuesday, 13 October 2015




دلبرا ! رقص کر
رقص کر ' میرے دل کی زمیں پر
نگاہوں پہ اپنا بدن عکس کر
رقص کر
میری آشاؤں کو چُن کے گھنگھرو بنا
میری ساری اناؤں کو پازیب کر
فرشِ دل ' جس کو ہم جانتے تھے کبھی عرشِ دل
اپنے پنجوں سے روند
ایڑیوں سے دَبا
دھول اِتنی اڑا ۔۔۔۔
مجھ کو تیرے سوا
کچھ دِکھائی نہ دے ' کچھ سُجھائی نہ دے
مجھ کو محبوب کر' مجھ کو مصلوب کر
میری میں مار دے ' مجھ کو مجذوب کر
مجھ کو بے نقص کر
دلبرا ! رقص کر 

No comments:

Post a Comment