Tuesday, 13 October 2015

پوجا کی تھالی

عجب وحشتِ رقصِ مستی ہے دیکھو
کبھی لَب سوالی
کبھی کاسہٴ جاں وفاوٴں سے خالی
کبھی چشمِ حیرت میں خوابوں کی خوشبو
کبھی دِل کی دھرتی پہ ہے خُشک سالی
کبھی آس کا کوئ غنچہ کِھلے
شام کا رنگ بدلے
کبھی ٹُوٹنے کو لچکتی رہے
عمر کی زرد ڈالی
یہی ہے جزا
گر تِرے عشق کی تو
مِرے ہاتھ سے چُھوٹ جائے گی آخر
یہ پوجا کی تھالی
نوشی گیلانی

No comments:

Post a Comment