Sunday, 17 August 2014


یہ بوندیں ہتھیلی پر
رہ رہ کے لرزتی ہیں
تھم تھم کے مچلتی ہیں
اور آہنی ریکھائیں
گم نام حرارت سے
جلتی ہیں ، سنبھلتی ہیں
چپ چاپ پگھلتی ہیں
نمناک فضائوں کے
حیران دریچوں سے
کرنیں سی جھلکتی ہیں
کچھ کہہ کے دبے قدموں
یکبار پلٹتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
کچھ کانچ بھری کلیاں
کچھ سر بفلک شاخیں
کھڑکی کے بدن تک بھی
مشکل سے پہنچتی ہیں
آوازوں کے جنگل سے
خاموشی کی بیلیں جو
اک دل سے نکلتی ہیں
اک دل میں اترتی ہیں

گلناز کوثر

No comments:

Post a Comment