Sunday, 17 August 2014



آسودگانِ ہجر سے ملنے کی چاہ میں
کوئی فقیر بیٹھا ہے صحرا کی راہ میں

پھر یوں ہوا کہ شوق سے کھولی نہ میں نے آنکھ
اِک خواب آ گیا تھا مری خوابگاہ میں

اس بار کتنی دیر یہاں ہوں،نہیں خبر
آ تو گیا ہوں پھر سے تری بارگاہ میں

پھر کارِ زندگی نے مجھے چھوڑنا نہیں
کچھ دن یہیں گزار لوں اپنی پناہ میں

یاروں نے آ کے جان بچائی مری،کہ مَیں
خود سے الجھ پڑا تھا یونہی خوامخواہ میں

عابد ملک

No comments:

Post a Comment