Saturday, 28 November 2015


ھوائے شام ! ذرا سا قیام ھو گا نا .....؟
چَراغِ جاں کو جلاؤں، کلام ھو گا نا ؟

بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے
کبھی کہیں پہ ملے تو، سلام ھو گا نا ؟؟

وہاں بہشت میں حُور و کسور ھوں گے مگر
قرارِ جاں کا بھی کچھ انتظام ھو گا نا ؟؟

کبھی کبھار ہی لیکن پکارتے ہیں تجھے...!
ھمارا چاہنے والوں میں نام ھو گا نا ؟؟

اگر مَیں آدھا اَدھورا ہی لوٹ آؤں تو
نگاہِ ناز ! وہی احتمام ھو گا نا ......؟؟

بس ایک بار محبت سے دیکھنا ھے اِدھر
بتاؤ ! تم سے یہ چھوٹا سا کام ھو گا نا ؟

"افتخار شاھد"

No comments:

Post a Comment