میری زندگی میں بس اک کتاب ہے، اک چراغ ہے
ایک خواب ہے اور تم ہو
میں یہ چاہتا تھا
یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ہیں
تمھارے ساتھ بسر کروں
یہی کل اثاثہ زندگی ہے اسی کو زادِ سفر کروں
کسی اور سمت نظر کروں تو میری دعا میں اثر نہ ہو
میرے دل کے جادہٴ خوش خبر پہ بجز تمھارے کبھی کسی کا گزر نہ ہو
مگر اس طرح کے تمہیں بھی اسکی خبر نہ ہو
اسی احتياط میں ساری عمر گزر گئی
وہ جو آرزو تھی کتاب و خواب کے ساتھ تم بھی شریک ہو، وہی مر گئی
اسی کشمکش نے کئی سوال اٹھاے ہیں
وہ سوال جن کا جواب میری کتاب میں ہے نہ خواب میں
مرے دل کے جادہٴ خوش خبر کے رفیق
تم ہی بتاؤ پھر کے یہ كاروبارِ حیات کس کے حساب میں
مری زندگی میں بس اک کتاب ہے
اک چراغ ہے
اک خواب ہے
اور تم ہو
افتخار عارف

No comments:
Post a Comment