Thursday, 19 November 2015


کا ش مجھ پر ہی مجھے یار کا دھوکا ہو جائے
دید کی دید تماشے کا تماشا ہو جائے
دیدہ شوق کہیں راز نہ افشا ہو جائے
دیکھ ایسانہ ہو اظہار تمنا ہو جائے
آپ کا جلوہ بھی کیا چیز ہے اللہ اللہ
جس کو آ جائےنظر وہ بھی تماشا ہو جائے
دور ہو جائیں جو آنکھوں سےحجابات دوئی
پھر تو کچھ دوسری دنیامری دنیاہو جائے
اس کی کیا شرم نہ ہو گی تجھےاے شان کرم
تیرا بندہ جو تیرے سامنے رسواہو جائے
تو اسے بھول گیا وہ تجھے کیونکر بھولے
کیسے ممکن ہے کہ بیدم بھی تجھی سا ہو جائے
بیدم وارثی

No comments:

Post a Comment