Thursday, 19 November 2015
" ایک شبیہ "
کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن
جب ، اچانک ، اسی جگہ ، اک شکل
میری آنکھوں میں مسکرائی تھی
اک پل کے لئے تو ایک وہ شکل
جانے کیا کچھ تھی ، جھوٹ بھی ، سچ بھی ،
شاید اک بھول ، شاید اک پہچان
کچھ دنوں سے تو جان بوجھ کے اب
یہ سمجھنے لگا ہوں ، میں ہی تو ہوں ،
جس کی خاطر یہ عکس ابھرا تھا ،
کچھ دنوں سے تو اب میں دانستہ
اس گماں کا فریب کھاتا ہوں ،
روز ، اک شکل اس دوراہے پر
اب مرا انتظار کرتی ہے ،
ایک دیوار سے لگی ، ہر صبح
ٹکٹکی باندھے ، نیم رخ ، یک سُو
اب مرا انتظار کرتی ہے
میں گزرتا ہوں ، مجھ کو دیکھتی ہے
میں نہیں دیکھتا ، وہ دیکھتی ہے
اُس کے چہرے کی ساخت ــــــــ ساعتِ دید
زرد ہونٹوں کی پتریاں ـــــــ پیتل ،
سرخ آنکھوں کی ٹکڑیاں ــــــــ قرمز
روغنی دھوپ میں ، دھنسے ہوئے پاؤں
منتظر ، منتظر ، اداس ، اداس
کبھی پل بھر کو ، ایک یہ چہرہ ،
جانے کیا کچھ تھا ، لیکن اب تو مجھے
اپنی یہ بھول بھولتی ہی نہیں
ایک دن یہ شبیہ دیکھی تھی ،
کچھ دنوں سے قریب دل ہے وہ دن
کچھ دنوں سے تو بیتتے ہوئے دن
اسی اک دن میں ڈھلتے جاتے ہیں
دن گزرتے ہیں اب تو یوں ، جیسے
عمر اسی دن کا ایک حصہ ہے
عمر گزاری ـــــــ یہ دن نہیں گزرا
جس طرف جاؤں ، جس طرف دیکھوں
مجھ سے اوجھل بھی ، میرے سامنے بھی ،
شکل اک ٹین کے ورق پہ وہی ،
شکل اک دل کے چوکھٹے میں وہی
مجید امجد
Labels:
Poetry
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment