محبت چار حرفوں کا صحیفہ ہے
محبت "میم" سے ہے مرگ
"ح" سے حادثہ بھی ہے
یہ"ب" سے بےکلی ہے اور "ت" سے تاج کانٹوں کا
اگر یہ مرگ ہے تو مرگ سے کس کو مفر سوچو ؟
جو اس کو حادثہ جانو تو اس سے کون بچ پایا
ہے"ب" سے بےکلی تو بےکلی سانسوں پہ حاوی ہے
"ح" سے حادثہ بھی ہے
یہ"ب" سے بےکلی ہے اور "ت" سے تاج کانٹوں کا
اگر یہ مرگ ہے تو مرگ سے کس کو مفر سوچو ؟
جو اس کو حادثہ جانو تو اس سے کون بچ پایا
ہے"ب" سے بےکلی تو بےکلی سانسوں پہ حاوی ہے
اگر ہے تاج کانٹوں کا تو جس سر پر بھی سجتا ہے
وہ سر تن پر نہیں رہتا
محبت خون میں ڈوبا ہوا اک دشت ہےِ،گہری اُداسی ہے
وہ سر تن پر نہیں رہتا
محبت خون میں ڈوبا ہوا اک دشت ہےِ،گہری اُداسی ہے
محبت ھے خدا جیسی
محبت کربلا سی ھے....!!
محبت کربلا سی ھے....!!
"فاخرہ بتول"
No comments:
Post a Comment