Friday, 10 October 2014



عشق میں جو بھی خود کو گھائل کر سکتا ہے
پیدا اپنے آپ وسائل کر سکتا ہے
۔
جس کی آنکھیں تیری آنکھوں کے جیسی ہوں
بڑے بڑوں کو پل میں سائل کر سکتا ہے
۔
پہلے خود پر عشق مکمل طاری کر لے
شاید مجھ کو پھر وہ قائل کر سکتا ہے
۔
دستک سے دیوار گرائی جا سکتی ہے
اپنی بانہیں یار حمائل کر سکتا ہے
۔
میں نے اس سے ایک عجیب سوال کیا ہے
اس سے اور سوال بھی سائل کر سکتا ہے
۔
وصل میں سر سے پاؤں تلک، میں آ سکتا ہوں
عشق میں جھومر، خود کو پائل کر سکتا ہے
۔
پہلا عشق بھلانا ہے تو دوجا کر لے
عشق کا زہر تو عشق ہی زائل کر سکتا ہے
۔
کیوں ممتاز اُتار رہے ہو گھنگرو تم بھی
دل دوبارہ رقص پہ مائل کر سکتا ہے

ممتاز گورمانی

No comments:

Post a Comment